انوارالعلوم (جلد 1) — Page 267
دیکھا گیا ہے کہ انسان سوتے سوتے مرگیا۔بعض دفعہ محفل دوستاں میں قہقہہ لگاتے لگاتے جان نکل گئی۔بیٹھے تھے کھڑے ہوئے اور گر کر مرگئے۔کام کرتے ہوئے دل کو ایسا صدمہ پہنچا کہ دستخط نصف ہی رہ گیا اور مرغِ روح قالب عنصری سے پرواز کر گیا۔سیڑھیاں چڑھنے لگے کہ ایک پیر اوپر رکھا اورایک نیچے کہ جان نکل گئی۔دیوالہ نکل گیا اور ساتھ ہی پیغام اجل بھی آگیا۔ایک دوست آیا اور ختم نکسیر پھوٹی اور سرد ہو گئے۔ہیضہ آیا اور چل دیئے۔طاعون آئی اور گھر کا گھر برباد کر گئی۔غرض ایک نہیں لاکھوں نظیریں ہر سال اس تم کی پائی جاتی ہیں وبا ئیں ،اندرونی اور بیرونی بیماریاں ،رنج و غم ،دشمنوں کے حملے، لڑائیاں، فساد، بغاوتیں ،زلزلہ طوفان ، بجلیاں ہزاروں چیزیں ہیں کہ انسان کی جان کے درپے ہیں اس سے بچے تو اس میں جا پڑے، اس سے نجات پائی تو تیسری در پیش ہےغرضیکہ اس صورت میں ممکن ہی نہیں کہ انسان کے کہ اب تو گناہ کر لو پھر توبہ کرلیں گے ممکن ہےکہ اس ارادہ کے دل میں آتے ہی جان نکل جائے۔پس چونکہ موت کا نہ زمانہ نہ مکان انسان کو بتایاگیا ہے اس لئے تو بہ پر یہ اعتراض نہیں آسکتا کہ اس طرح گناہوں پر ولیری ہو گی اور یہ اعتراض توخود مسیحی صاحبان پر بھی پڑتا ہے۔کیونکہ جب کفار ہ پر ایمان لانے سے انسان گناہوں سے بچ سکتا ہےتو کفاره بدرجہ اولیٰ بدیوں کی ترغیب دلانے والا ہے۔توبہ کے مسئلہ پر اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کی عقلوں پر تو مجھ کو سخت تعجب آتا ہے کیونکہ تو بہ جن لوگوں کےلئےہےان کا ذکرتوخودقرآن شریف نے کر دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے کہ وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۱۳۵)اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ (ال عمران :۱۳۶،۱۳۷) جس سے معلوم ہو تا ہے کہ توبہ انہیں لوگوں کے لئے ہے جو شرارت سے فساد پھیلانانہیں چاہتے بلکہ غلطیوں یا غفلت کی وجہ سے گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور پھر اپنے گناہ پر اصرارنہیں کرنے پھر قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ پر ہے وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (الانعام : ۵۵) اس آیت کے علاوہ اس کے کہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت ثابت ہوتی ہے یہ بھی ظاہر ہے کہ توبہ انہی لوگوں کے لئے ہے جو مذہب، ملک، رسم و عادت ،نامناسب تعلیم، ضد اور غفلت اور بد صحبت کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں نہ کہ ان کے لئے جو