انوارالعلوم (جلد 1) — Page 234
کہ ان کے ایک اخبار نویسں لکھتے ہیں کہ بکرماجیت سے بھی پہلے ایک راجہ تھا۔جس نے سرحد پر حملہ کر کے مسلمانوں کی لڑکیاں چھینی تھیں گویا کہ آنحضرتﷺ ا سے بھی سات آٹھ سو برس پہلےمسلمان سرحد پر رہا کرتے تھے۔مگر پھر بھی چونکہ تنقید کرنی پڑتی ہے۔اس لئے کچھ نہ کچھ لکھنا ضروری ہے مگر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔صرف اس قدر کافی ہے کہ بقول ان کے دنیا کروڑوں برس سے چلی آرہی ہے۔تواتنی مدت میں صرف آج پنڈت دیا نند کو یہ بات سوجھی کہ وید سب دنیا کے لئے ہے۔اور جس قدررشی منی گزرے ہیں سب اس سمجھ سے خالی تھے۔تو پھر یہ بڑا پاپ اور ظلم ہے کہ وہ تعلیم جو ساری دنیا کے لئے تھی وہ پرماتما نےصرف ہند میں مخصوص کر چھوڑ ی اور یہی نہیں بلکہ صرف آرین قوم کے لئے خاص کردی جب کروڑوں برس سے تمام ہند ورشی ،منی میں کہتے آئے ہیں تو آج پنڈت صاحب کو ہم کس طرح مان لیں کہ یہ درست کہہ رہے ہیں۔کیوں نہ کہیں کہ مسلمانوں اور مسیحیوں کو دیکھ کر آپ کو بھی شوق چڑھ آیا کہ ہم کیوں پیچھے رہیں۔کیوں نہ وید کو بھی تمام دنیا کے لئےبتائیں بے شک ایک رنگ میں تو یہ تمام عالم کے لئے ہو سکتا ہے۔چنانچہ ہندوؤں کی بعض کتابوں سے معلوم ہو تا ہے کہ ہمالیہ سے پرے کچھ نہیں۔بس دنیاو ہاں ختم ہے۔تو اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وید سب دنیا کے لئے اترا تھا۔کیونکہ جب دنیا ہندوستان کا ہی نام ہے۔تو بیشک و ید سب دنیا میں شائع ہو چکا ہے اور ہمیشہ سے اس کی تعلیم دنیا کے (یعنی ہندوستان کے ہر کونے میں پھیلی ہوئی ہے۔اور اس بات کے مان لینے میں ہم کو بھی کچھ مضائقہ نہیں۔لیکن اگر دنیا سے مراد کل عالم لیاجائے تو پھرہم دید کو کل دنیا کے لئے نہیں مان سکتے اور نہ خود ہندوؤں کی کتابیں تم کو اس بات کیاجازت دیتی ہیں۔مگر اصل بات یہی ہے کہ جب سے آرین لوگ ہندوستان میں آئے ہیں اور جب سے کہ ویدتصنیف ہوئے ہیں۔اسی وقت سے ان کی تعلیم کو ہندوؤں میں خاص رکھا گیا اور شودروں کے لئےایسے سخت قانون بنائے گئے کہ ان کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنے سوادو سرے لوگوں کوکیا سمجھتے تھے۔چنانچہ حکم تھا کہ اگر کوئی شودر وید کو سن لے یا خود بھی نہ سنے اس کے کان میں ہی آواز پڑ جائے تو اس کو سخت سزائیں دی جائیں اور کان کاٹ دئیے جائیں آنکھیں نکال دی جائیں وغیرہ وغیرہ- او رو ید کو چھونے پر تو بہت ہی سخت سزائیں ملی تھیں۔پی ایسی حالت میں یہ کہنا کہ ویدسب دنیا کے لئے ہے کہاں تک ٹھیک ہو سکتا ہے۔جب آریوں کے بزرگوں کا عمل اور ان کی کتب