انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 235

ہم کو یہ واقعات بتا رہی ہیں۔تو پھر زبان سے وید کو کل عالم کے لئے کہہ دینے سے تو کچھ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔اگر کوئی تعلیم و ید کی ایسی ہوتی کہ جس میں سب دنیا کی ہدایت کا اقرار ہوتا تو آخر اس اربوں برس میں کوئی رشی منی با او تار تو اس ودھرم کے کام کو اپنے ہاتھ میں لیتا اور کہتا کہ وید سےمعلوم ہو تا ہے کہ سب دنیا کو ہدایت کرو پھر اس کتاب کو اپنے گھر میں کیوں چھپائے بیٹھے ہو۔اوراگر جب سے دید نازل ہوئے ہیں۔سب ہندو دھرم سے دور اور ہدایت سے خالی ہی رہے ہیں۔اور کسی کو بھی ہندوستان سے باہر کے لوگوں کی حالت پر رحم نہیں آیا۔اور نہ وید کی تعلیم کی حمایت کاہی جوش پیدا ہوا تو ایسی کتاب جس نے دو ارب برس میں ایک کو بھی ہدایت نہ کی۔آج اس سے ہم کیافائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور ہماری نجات کے لئے وہ کیا کر سکتی ہے۔غرض کہ و ید نہ تو تمام دنیا کے لئے ہونے کا دعوی ٰکرتا ہے۔اور نہ ہی اس کی وجہ بتا تا ہے اورعلاوہ اس کے وید اب تک ہندوستان سے باہر نہیں پھیلایا گیا۔اور ہمالیہ سے باہر اس کی تلقین نہیں ہو گئی۔اور شاستروں سے معلوم ہو تا ہے۔کہ وید کو غیر قومیں سنیں تک نہیں۔اور خودہند و بزرگوں کاعمل یہی ظاہر کرتا ہے چنانچہ آریہ قوم کے سوا جو کہ بہت تھوڑی تعداد میں ہے۔اور لاکھوں سےنہیں بڑھتی کل فرقے اس بات کے قائل ہیں کہ وید کا باہر نکالنا اور غیر قوموں کو اپنے اندرشامل کرنا بالکل ناجائز ہے۔اور گناہ عظیم ہے۔تو اس صورت میں آریوں کا نجات کادر و از تمام دنیا کے لئے کھلا ثابت کرنا بالکل غلط ہے۔اور ان کو کوئی حق نہیں کہ غیر قوموں میں اپنے مذہب کی تلقین کریں۔اسلام سب دنیا کے لئے ہےمیں دیکھتا ہوں کہ تمہید بہت لمبی ہوتی جاتی ہے۔مگر پھر بھی ضروری ہے کہ میں قرآن شریف سے اس بات کا دعویٰ دکھاؤں کہ وہ سب دنیا کے لئے ہے۔اور یہ کہ آنخضرت ﷺ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لئے خاتم النبین ہو کر مبعوث ہوئے ہیں۔اور اب تک جس کو تیرہ سو برس گزر گئے ہیں یا آئندہ آپ کی غلامی سے منکر شخص کی رسائی در بارالہٰی میں نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اول ہی اول جو آیت ہم کو سورة فاتحہ میں نظر آتی ہے و ہ الحمد للہ رب العٰلمینہے جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے اس کے لئے جو سب دنیا کا رب ہے۔یعنی پرورش کرنےوالا ہے۔جس میں کہ ہم کو بتایا گیا ہے کہ شکر کرو اس خدا کا جس نے وہ کتاب بھیجی کہ جس نے پہلی سب کتابوں کو موقوف کر کے جو مختلف قوموں کے لئے تھیں اس کتاب کو ارسال کیا کہ جو ربوبیت