انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 176

اینٹیں بنائیں اور نصف وقت میں اس کے لئے ایندھن جمع کریں اب یہ ایسا وقت تھا کہ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور لگے موسیٰ کو برا بھلا کہنے کہ آگےتو پھر بھی کچھ وقت خالی رہتا تھا اس کے آنے سے وہ بھی جاتا رہا اور آگے سےبھی زیادہ مصیبت پڑی مگر کیاخد ا کا کلام جھوٹ نکلا؟ نہیں۔اس کے پورا ہونے کا وقت قریب تھا ہاں یہ واقعہ جو ہوا تو صرف اس وجہ سے کہ تا خدا انہیں بتائے کہ یہ کام جو کچھ ہوا یہ بنی اسرائیل کی کوششوں اور تدبیروں سے نہیں ہوا بلکہ محض خدا کے فضل سے اور اس کے وعدہ کے مطابق ہوااور اس نے ظاہر کیا کہ جب انسان کچھ نہیں کر سکتا اور بات ناممکن ہو جاتی ہے تو اس وقت میں اسےکر کے دکھا دیتا ہوں۔پس جب بنی اسرائیل طرح طرح کے عذابوں کی تاب نہ لا سکے اور ان کی چیخ و پکار بڑھ گئی اور انہوں نے آہ و زاری شروع کی تو خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ان کو فرعون کےہاتھوں سے بچایا اور اس کو مع اپنی فوجوں کے سمندر میں غرق کیا اور یہ اس لئے ہوا کہ بنی اسرائیل نے اس کے دکھوں سے تنگ آکر بہت آہ و زاری کی تھی پس خدا نے بنی اسرائیل کے آنسوؤں کوسمندر بنا کر فرعون کو غرق کیا اور وہ فرعون جو حضرت موسیٰ سے ہنسی کر تا تھا اسے اپنا جلوہ سمندر کی تہہ میں دکھایا اور بتادیا کہ خدا جیسا آسمان پر ہے اورزمین پر بھی ہے پس تو مکان کیوں بناتا ہے آمیں تجھے چہرہ زمین کی تہ میں سمندر کی لہروں کے نیچےدکھا دوں۔پس اس طرح خدا کا وعدہ پورا ہوا اورجو موسی ٰؑسے کیا گیا تھالفظ بلفظ سچا ثابت ہوا پھر دو سراوعده خدا تعالیٰ نے ہمارے آنحضرت ﷺسے کیا اور جب کہ آپ بالکل تن تنہاتھے اس وقت آپ ﷺکو وہ خبردی جو انسانی عقل اور سمجھ سےبالا تھی۔یعنی آپ ﷺکو وعدہ دیا کہ ایک بڑی قوم آپ کے ساتھ ہوگی اور آپﷺ کا نور کل دنیامیں پھیل جائے گا اور وہ مکہ جہاں آپ ﷺبے کسی کی حالت میں رہتے تھے اسی میں آپ فاتح ہو کر آئیں کے پس یہ ایسے وعدے تھے جن پر ایمان لانا تو الگ اس وقت کے لوگ حیران ہوتے تھے کہ کیا یہ کسی عقل مند کے منہ سے نکل سکتے ہیں۔وہ یتیم جو خود محتاج تھا اس کو وعده دیا جاتا ہے کہ تیری وجہ سے دنیا کےیتیموں اور بیواؤں کی پرورش ہوگی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کل دنیا نے ان وعدوں کو پورا ہوتے دیکھےلیا اور اس وقت کروڑوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے مسلمان اسی و عدہ کا نتیجہ ہیں پس یہ وعدہ بھی خدا نے بڑے زور و شور سے پورا کیا۔پھر ایک اور وعدہ تھا جو حضرت عیسیٰؑ سے کیا گیا تھا اور کہا گیا تھاکہ ایک وقت آئے گا کہ اس کے متبع اس کے منکروں پر غلبہ پائیں گے اور ایساغلبہ پائیں گے کہ پھراس کے مخالف کبھی سر نہ اٹھائیں گے اور ہمیشہ آپﷺ کے متبعین کے ماتحت ہی رہیں گے۔شروع شروع میں یہودیوں نے زور لگایا اور اس خدا کے برگزیدہ کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھامگر خدا نے