انوارالعلوم (جلد 1) — Page 138
۔ہے اور لکھ چکا ہے کہ اس کا قبول کرنا بیوقوفوں کا کام ہے۔تو اب اس کو مان کر بیوقوف کیوں بنتا ہے اور اپنے کہے کے بر خلاف کیوں چلتا ہے؟ اور جب اس نے خود اس کو نامنظور کیا تو اب اس دعا کے مطابق فیصلہ کا کیوں منتظر ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ نہ صرف اس نے شروع میں ہی اس دعا کے فیصلہ سے انکار کیا بلکہ آخر سال میں بھی حضرت کی وفات سے چند دن پہلے اس بات کا انکار کیا اور لکھا کہ اب چونکہ سال گذر گیا ہے اس لئے مباہلہ کی میعاد ختم ہو گئی اور اب کوئی اثر مباہلہ کا نہیں ہو سکتا۔پس جب یہ خودہی حضرت کی وفات سے پہلے اس میعاد کو ختم کر چکا ہے تو اب اگر اس دعا کو اس کے کہنے کے مطابق مباہلہ بھی مان لیا جائے تو بھی اس مباہلے کے مطابق حضرت اقدسؑ کی وفات نہیں ہو سکتی کیونکہ خود ثناء اللہ اس میعاد کو ختم کر چکا ہے۔اور تیسری بات جو میں نے لکھی ہے یہ ہے کہ نبی کے آنے کی اصل غرض اصلاح ہوتی ہے نہ کہ انذاری پیشگوئیاں۔پس اس وجہ سے انذاری پیشگوئیوں میں التواء بھی ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ و و منسوخ بھی ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ محض اصلاح کے لئے ہوتی ہیں۔جب اصلاح کا اور طریقہ نکل آئے یا مخالف پر اتمام حجت کرنے کی کوئی اور صورت پیدا ہو جائے تو وہ بدل جاتی ہیں۔چنانچہ اس طرح حضرت اقدسؑ کی ثناء اللہ کی نسبت دعايا پیشگوئی انذاری رنگ میں تھی اور اصلاح کے لئے تھی جب اس نے اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ہمارے لئے جھوٹے کاسچے کی زندگی میں مر جانا کوئی اتمام حجت نہیں بلکہ قرآن شریف سے اس کے بر خلاف جھوٹے کا ڈھیل دیا جانا ثابت ہوتا ہے اور اسی کے مطابق مسیلمہ کذاب آنخضرتﷺ کے فوت ہونے کے بعد ہلاک ہو اتواب اصلاح کی یہ صورت تھی کہ ثناء اللہ کو ڈھیل دی جائے کہ اس کے ساتھیوں پر اور اس پر اتمام حجت ہو اور انہیں کے فیصلے کے مطابق ان کو ملزم کیا جائے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کیا اور ثناء اللہ اپنے ہی قول کے مطابق مفسد ودغا باز اور جھوٹا ثابت ہوا اور اخیر میں میں نے لکھا ہے کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے اس دعا کو مباہلہ قرار دیتا ہے جو حضرت اقدسؑ نے اس کے لئے کی۔مگر اس سے پہلے خود لکھ چکا ہے کہ مباہلہ طرفین کے مقابلہ پر قسمیں کھانے کو کہتے ہیں اور اس کے بر خلاف کہنے والا جھوٹا ہے۔پس یہ خودیہ جھوٹا ثابت ہوا اور عوام کو چاہئے کہ اس کے مکر اور فریب سے بچیں۔