انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 139

تیسرا باب مختلف پیشگوئیوں کے بارے میں اب جبکہ میں عبد ا لحکیم اور ثناء اللہ کے بارے میں کسی قدرتفصیل سے واقعات کے لکھ آیا ہوں۔اور ان کی طرف سے جو اعتراض ہوتے ہیں خدا کے فضل سے ان کا جواب دے چکا ہوں۔مناسب سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس ؑکی بعض ایسی پیشگوئیوں پر بھی کچھ لکھوں جو کہ مخالفین سلسلہ کے خیال میں اب تک پوری نہیں ہوتیں یا ان کے پورے ہونے میں کچھ کر رہ گئی ہے مگر ان کے شروع کرنے سے پہلے پھر میں اس اصول کی طرف ناظرین کی توجہ مبذول کراتا ہوں کہ ہر ایک نبی کی بعثت کی غرض دنیا میں اصلاح ہوتی ہے۔اور اس کی تعلیم کو نظرانداز کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں، بلکہ ہر حال میں پہلے اس کی تعلیم پر غور کرنا شرط ہے اور پھر بعد اس کے اس کی پیشگوئیوں پر نظر ڈالنی چاہئے۔پس اسی اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تمام اعتراضوں کا جواب دوں گا جو کہ مخالفین سلسلہ کی طرف سے حضرت اقدسؑ پر کئے جاتے ہیں چنانچہ سب سے اول میں حضرت اقدس ؑکی عمر کے بارہ میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔اول - عام طور سے اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدسؑ کا ایک الہام تھا جو کہ انہوں نے بارہا شائع کیا تھا کہ میری عمراسّی سال کے قریب قریب ہوگی حالانکہ وہ میعاد مقررہ سے پہلے فوت ہو گئے۔اور یہ بات ان کی سچائی میں شکوک کی گنجائش پیدا کرتی ہے کیونکہ جب انہوں نے بڑے زور سے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ میری عمراسی سال کے قریب ہوگئی تو کیا وجہ کہ وہ پہلے فوت ہوئے۔اگر یہ خبر ان کو خدا کی طرف سے ملی تھی اور وہ سچے نبی تھے تو چاہئے تھا کہ اس الہام کے مطابق فوت ہوتے ورنہ جب وہ اپنے الہام کے مطابق فوت نہ ہوئے اور اپنی بتائی ہوئی میعادسے پہلے انتقال کر گئے تو مخالفوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ان کی تکذیب کریں اور