انوارالعلوم (جلد 1) — Page 98
پس اب سوائے کسی بد بخت اور کور باطن انسان کے کسی کو انکار ہو سکتا ہے اور کونسی سعید روح ہے جو باوجود ایسے ایسے کھلے نشانوں اور زبردست تائیدات الٰہیہ کے اس خدا کے رسول ؑکا انکار کرے جو دنیا میں اپنا کام پورا کر کے اپنے بھیجنے والے کی طرف چلا گیا۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ حضرتؑ کی وفات خود ان کی سچائی کا ایک زبردست نشان ہے اور خدا تعالیٰ کی ہستی اس سے ثابت ہوتی ہے اور اس کی طاقت اور جبروت ظاہر ہو تا ہے پھر بھی بعض کور باطن اور ضد و تعصب سے بھرے ہوئے اور دروغ و کذب بیانی کو شیر مادر سمجھنےوالے اس کو اپنی سچائی کا نشان قرار دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ کی وفات ہماری پیشگوئی کے مطابق ہوئی۔اور بعض ان میں ایسے ہیں جو اس کو مباہلہ کی وجہ سے قرار دیتے ہیں۔اورنہیں سمجھتے کہ خدا کے رسولوں اور برگزیدوں کی مخالفت کا انجام اچھا نہیں ہوتا اور وہ درخت جوخداگانا چاہتا ہے کوئی نہیں جو اس کو کاٹ سکے۔کیا ان میں اتنی عقل نہیں اور وہ اس قدر شعور بھی نہیں رکھتے کہ ایک معمولی کسان درخت لگاتے ہوئے اس بات کا انتظام کر لیتا ہے کہ کوئی پرند چرند یا آدمی اس کو ضرر نہ پہنچا سکے۔اور اس کے لئے وہ پہلے سے ایسی تدابیر عمل میں لاتا ہے کہ جس سے وہ پودا ان تمام حوادث زمانہ سے بچ رہے جو ممکن ہے کہ اس کو مضبوط جڑ پکڑنے تک پیش آئیں تو خداوند تعالیٰ نے جو ہر ایک بھی کا جاننے والا ہے اور تمام زمانوں کا علم رکھتا ہے اور ہر ایک بات پر قادر ہے، جو وہ چاہتا ہے کرتا ہے۔اور اس کے راستے میں کوئی شخص رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتا۔اور اس کے ارادہ کے بر خلاف خواہ تمام مخلوقات عالم مل کر کرنا چاہے تو بھی اس کے بر خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔اور اگر وہ چاہے تو ایک دم میں تمام مخلوقات عالم کو تباہ کر دے۔کیونکہ وہ خالق ہے تمام چیزوں کا اور قادر ہے ہر ایک بات پر اور کوئی نہیں جو اس کے حکم کے بر خلاف دم بھی مارسکے کیو نکر اس درخت کو جو و ہ لگانا چاہتا ہے خالی چھوڑ دیا اور اس کے لئے حفالت کے سامان مقررنہیں کئے اور درندوں اور پرندوں کو اجازت دے دی کہ جس طرح چاہو اس درخت کو تباہ کر و -مگر میں ان لوگوں کو جو ایسا خیال کرتے ہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ کوئی لغو کام نہیں کرتا۔اورجب وہ دنیا میں ایک سلسلہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس طرح اپنے نام کی عزت جو بنی نوع انسان کےدلوں میں سے اٹھ چکی ہوتی ہے پھر دوبارہ بلند کرنا چاہتا ہے تو خواہ تمام دنیا اس سلسلہ کے بر خلاف زور گائے اور شیطان اپنی کل فوجوں کے ساتھ رحمانی لوگوں پر حملہ کرے اور اس وقت کےرسول کو خواہ کس قدر دکھ دیئے جائیں اور کیسی کیسی رکاوٹیں اس کے راستہ میں پیدا کی جائیں تو