انوارالعلوم (جلد 1) — Page 67
اور اس کے لئے پیشگوئی کی کہ اگر رجوع الی الحق نہ کیا تو تجھ پر خدا کا عذاب نازل ہو گا اور تو پندرہ ماہ کے اندر اس دنیا سے اٹھالیا جائے گا اس لئے کہ تو نے نبی کریم ﷺکے لئے دجال کا لفظ استعمال کیا ہے مگر اس نے یہ سنتے ہی اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا اور اس لفظ کے کہنے سے مکر گیا اور پیشگوئی کار عب اس کے دل پر ایساپڑاکہ وہ اس عرصہ میں بھاگتا پھرا اور اپنے دوستوں کو کہتا تھا کہ مجھ پر تین دفعہ حملہ کیا گیا ہے ایک دفعہ تو ایک پڑھےہوئے سانپ نے مجھ پر حملہ کیا اور دو دفعہ مسلح سپاہیوں نے۔مگر ناظرین پڑھے ہوئے سانپ کی حقیقت خوب سمجھ سکتے ہیں اور گورنمنٹ ا نگریزی کی عملداری میں مسلح آدمیوں کا حملہ کر نا بھی سمجھ میں آسکتا ہے جبکہ ہتھیار رکھنے کی قطعاً ممانعت ہے اور پھردن کے وقت اور لدھیانہ جیسے شہرمیں جہاں کہ اس کا داماد ایک معزز عہده پر نوکر تھا۔پس یہ باتیں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ وہ پیشگوئی سے اس قدر خائف تھا کہ اس کی قوت متخیلہ نے اس کے سامنے ایسے نظارے پیش کئے اور یہی اس کے ڈرنے کی علامات تھیں جس کی وجہ سے وہ میعاد کے اندر مرنے سے بچ گیا مگر چونکہ اس نے میعادکے بعد یہ تہمتیں لگائیں کہ مجھ پر حملے کئے گئے اور مجھ کو مارنے کی فکر کی گئی اور حق کو چھپانا چاہا اس لئے اس کو قسم کے لئے بلایا گیا اور کہا گیا کہ اگر تو اپنے دل میں خائف نہیں ہوا اور پیشگوئی کارعب تیرے دل پر نہیں چھا رہا تھا تو آکر قسم کھاجا جس کے جواب میں عیسائیوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا منع ہے حالانکہ پولوس رسول نے قسم کھائی ہے اور یہ صرف ایک ڈھکوسلا تھا اور اس کی سزا میں یہ ہوا کہ آ تھم پھر پندرہ مہینے کی میعاد میں مر گیا اور اس سے پہلے یہ اعلان ہو چکا تھا کہ چونکہ اس نے حق پوشی کی ہے اس لئے یہ اب بھی سزا سے بچ نہیں سکتا اور یہ صاف بات ہے کہ اگروہ تو جہ نہ کرتا اور دل میں خائف نہ ہو تا جیسا کہ خود اس نے روتے ہوئے اپنے دوستوں کے سامنےاس کا اقرار کیا تو پیشگوئی ایک طرح سے لغو ہو جاتی کیونکہ خدا نے یہ شرط کیوں لگادی جبکہ اس نےتو بہ نہیں کرنی تھی تو چاہئے تھا کہ خدا صاف ظاہر کرتا کہ اس میعار میں یہ مر جائے گا مگر چونکہ اس نے خائف ہونا تھا اس لئے یہ شرط لگائی گئی اور اس طرح دو پیشگوئیاں پوری ہو گئیں ایک تو وہ خائف ہو اور دوسرے جلدی مر بھی گیا جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا کہ یہ اگر قسم نہ کھائے گا تو سزاپائے گااور اس طرح اس کی موت سے نہ صرف عیسائیوں پر ہی حجت پوری ہوتی بلکہ پہودیوں پر بھی کیونکہ ان کا اصل ایک ہی ہے اور دونوں ایک ہی شریعت پر عملدرآمد کرنے والے اپنے آپ کوظاہر کرتے ہیں گو عمل نہ کریں۔اب میں دوسری پیشگوئی کا بیان کرتا ہوں یعنی وہ جو لیکھرام کی نسبت کی