انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 66

کرتا ہے کہ تمام دنیا میں جہاں کہیں انسانی نسل رہتی ہے خدا نے اپنی طرف رہنمائی کرنے کے لئے سامان مہیا کر دیا ہےاور اپنے بندوں کی کمزوری پر ہر جگہ رحم کیا ہے اور یہ بات عقل کے بر خلاف ہے کہ خدا نےجسمانی ربوبیت کا سامان تو تمام دنیا کے لئے مہیا کر دیا لیکن روحانی ربوبیت کا خیال بالکل ہی نہیں کیااور سوائے ایک قوم کے سب کو اس سے محروم رکھا اور اسی لئے خدا تعالیٰ اپنے کلام کے شروع ہی میں اس بات کی تردید کر تا ہے اور فرماتا ہے کہ میں ہر قسم کی ربوبیت ہر جہاں کے لوگوں کی کر تاہوں اور یہ جو افتراء باندھا گیا ہے کہ میں کسی اور کی ربوبیت نہیں کرتا بلکہ صرف ایک قوم کا ہی متکفل ہوں بالکل غلط ہے بلکہ میں تو تمام جہانوں کا ربوبیت کرنے والا ہوں اب خواہ وہ ربوبیت جسمانی ہواور خواہ روحانی۔اس جگہ مخالف ایک اعتراض کر سکتا ہے کہ جب اسلام نے بھی نجات اسلام پر ہی منحصررکھی ہے تو ربوبیت تمام جہاں کی کہاں گئی مگر اس کا جواب صاف ہے کہ گو خدا تعالیٰ نے آئنده کے لئے اسلام پر ہی نجات کا دار و مدار رکھا ہے مگر پھر بھی یہ اعتراض نہیں پڑ سکتا کیونکہ خدا نےشریعت کا دروازہ بند کیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ شریت کامل ہوگئی ہے ورنہ الہام الہی کا دروازہ تو بالکل کھلا ہے اور جو شخص کہ جائز طریقہ سے اس کا فائدہ اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے لیکن اسلام میں داخل ہو کر اور نبی کریمﷺ کی سنت کی اتباع کر کے ایک شخص خدا تعالیٰ سے مکالمہ و مخاطبہ کرسکتا ہے حالانکہ دوسرے مذاہب کا خیال ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو کہ ان کے آباء و اجدادتھے اور کسی کو یہ درجہ نصیب نہیں ہوا۔پس ان میں تو ربوبیت کا دروازه غیرمذاہب والوں پر بلکہ خود ان پر بھی بند ہے اور اسلام میں یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہے اور اب بھی ہم میں ایک ایساشخص موجود ہے جس سے کہ خدا کلام کرتا ہے اور اپنی پاک آواز اس کو سناتا ہے اور اس کے سبب سے اور لوگ بھی اس کے غلاموں میں سے ایسے موجود ہیں جو کہ الہام الہی سے مستفیض ہیں اوراس کے کلام کی سچائی آتھم کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں پراور لیکھرام کی وجہ سے آریوں اور سناتیوں پر ثابت ہے اور اب اگر وہ نہ مانیں تو اس میں نہ تو اس خدا کے مامور کا کچھ قصور ہےاور نہ خدا کاہی ظلم ہے ان پر حجتیں قائم ہو چکی ہیں اور عذاب الہی کا دروازہ کھل رہا ہے اور کھلنےوالا ہے چونکہ اس جگہ میں نے آتھم اور لیکھرام کا نام لیا ہے اس لئے اس کی بابت کچھ لکھ دیناضروری سمجھتا ہوں۔آتھم ایک عیسائی تھا جس کی سرشت میں گالیاں دینا اور مسلمانوں کا دل دکھانابھرا ہوا تھا اوراس نے ایک موقع پر نعوذباللہ دجال کا لفظ نبی کریمﷺ کے لئے استعمال کیا جس پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو مباہلہ کے لئے بلایا