انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 41

گئی ہے۔بلکہ وہ خاموش رہے اور اس سے ثابت کیا ہے کہ ہم اس عقیدہ کو در حقیقت سچا سمجھتے ہیں پس ایساخداجو خود تھک جاتا ہے ہماری محبت کا کیا بدلہ دے سکتاہے۔ممکن ہے کہ وہ دنیا کے انتظام سے ہی تھک جائے اور دوزخ بہشت سب کو فنا کر دے اور اس طرح وہ جو کہ گناہ گار ہیں فائدے میں رہیں کہ اس دنیا میں بھی عیش کرتے رہے اور آگے بھی کوئی پرسش نہ ہوئی اور وہ ایک نیک اور صالح آدمی جوکہ تمام عمر خدا تعالیٰ کی محبت کیلئے بڑے بڑے مجاہدات کرتے رہے بے بد لہ کے چھوڑ دیئے جائیں اور ان کی تمام محنتیں برباد ہو جائیں۔غرض کہ یہ مسئلہ انسانی سمجھ سے بالا ہے اور اس لئے ہم اس پربے فائدہ خامہ فرسائی نہیں کرنا چاہتے۔اور چاہتے ہیں کہ اب ہم یہودیوں کی تعلیم کو دیکھیں کہ وہ کیسی ہے شاید وہی کچھ ایسی تسلی بخش نکل آئے کہ باقی سب دھبے مٹ جائیں۔مگر افسوس کہ غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کیو نکہ وہ انسانی فطرت کے بر خلاف ہے کیونکہ حکم ہے کہ جو کوئی تمهارا دانت توڑ دے تو تم اس کا دانت توڑ دو اگر کوئی تمہاری آنکھ پھوڑ دے تو تم اس کی آنکھ پھوڑ دو اور اسی طرح یہ کہ اگر کوئی تمهارا آدمی مار دے تو تم اس کو مار دو یا دیت لو اور تمام امور میں عفو کا کہیں نام بھی نہیں حالانکہ انسانی فطرت میں ہے کہ بعض دفعہ ایک انسان ایک گناہ کو معاف کردیتا ہے تو دوسرے وقت میں کسی مصلحت کے لئے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے۔اور اگر یہودیوں کی تعلیم پر عمل کیا جائے تو ایک دن میں ہی دنیا کا کام تمام ہو جائے لیکن ملک میں طرح طرح کے فساد اور بیسیوں بغاوتیں پھوٹ پڑیں اور کوئی گورنمنٹ یا حکومت نہ ہو کہ جس کی رعایا اس قاعدے سے تنگ آکر مقابلہ پر کمرنہ باندھے۔اصل میں یہ بات ہے کہ یہ قوانین وقتی تھے اور ایک قوم کیلئے محدود تھے۔اس لئے ان کو تمام دنیا پر حاوی کرتا سخت نادانی ہے اور پھر اگر یہودی بننے کا دروازہ کھلا ہو تو اس بات پر بحث کی جائے اور اچھی طرح ثابت کیا جائے کہ وہ کوئی اور ہی زمانہ تھا کہ جب یہ تعلیم پھیلائی جاتی اور قابل عمل سمجھی جاتی تھی لیکن اب دنیا کے حالات بدل گئے ہیں اور دنیا میں علم اور سائنس کے بڑھ جانے ریلوں کے جاری ہونے اور تار کے پھیلنے سے لوگوں کادستور العمل اور طریقہ معاشرت بھی بدل گیا ہے۔پس اس زمانہ میں یہ تعلیم ایک بوسیدہ عصاےزیادہ وقعت نہیں رکھتی کہ جس کو زور سے زمین پر مارنے سے کھل جاتا ہے کہ اس کے اندرسوائے کچھ کرم خوردہ بورے کے اور کچھ نہیں ہے۔پھر مکالمہ مخاطبہ الہام یا وحی جو کچھ بھی اس کوکہیں یہ ایک فرقہ کی کامل سچائی کی دلیل ہوتا ہے۔کیونکہ جب یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایک فرقہ کےبہت سے افراد الہام الٰہی سے مستفیض ہوتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ نصرت الٰہی بھی شامل