انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 40

اور چشمہ میں پاؤں ڈالے بیٹھے ہیں یہودی ہیں۔جو کہ یہودی ہونے اور بنی اسرائیل میں پیدا ہونے کی وجہ سےخوش ہیں۔اور عذاب آخرت سے بے فکر میں اور وہ جو کہ دور سے پانی ما نگنے آتا ہے اور جس کو پیاس کی شدت سے سخت تکلیف ہے ان لوگوں میں سے ہے جو کہ دوسرے مذہبوں ، قوموں اورفرقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جو کہ (خدانخواستہ) یہودیوں کی تعلیم ہی سچی سمجھ کر اور پیاس کو بجھادینے والی سمجھ کر آیا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھ کو بھی وہی تعلیم تلقین کی جائے مگر آگے سے صاف جواب ملتا ہے کہ نہیں یہ تو انہی لوگوں کیلئے ہے جن کو پہلے سے ہی یہودیت کا جامہ پہنایا گیا ہے۔پس اس صورت میں کیسا باطل ہو جاتا ہے یہ دعوٰی کہ نجات حاصل کرنے کا یہی راستہ ہے اور یہی وہ پیالہ ہے جس کے پینے سے محبت کی آگ تسکین پکڑتی ہے۔کیونکہ جب ایک گمراہ اور ایک پیاسا ہدایت پانا اور پیاس کی شدت سے بچنا چاہے تو صاف جواب دیا جاتا ہے کہ پہلے یہودیت کایعنی بنی اسرائیل ہونے کا سرٹیفکیٹ دکھاؤ اور پھر نجات ملے گی اس تعلیم کا فائدہ ہی کیا ہے جو کہ عالموں کو دی جائے اور کس کام کی ہے وہ نجات جو کہ نجات یافتوں کو ملے۔پس یہ عقیدہ عیسائیوں کےکفارہ کی طرح اس قابل نہیں کہ جس کو کوئی عقلند باور کر سکے یا کوئی حق کا طالب جس سے تسلی یاسکے بلکہ فوراً خیال اس طرف جاتا ہے کہ ضرور اس تعلیم میں کوئی نقص ہے کہ جس کو چھپانے کیلئے نجات کا دروازہ صرف یہودیوں پر ہی کھولا گیا ہے اور مخالفوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھا گیاہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی کمزوریاں دوسروں پر کھل جائیں۔اب ہم یہودیوں کی تعلیم پر کچھ روشنی ڈالنی چاہتے ہیں مگر اس سے بیشتراتنا کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق بھی اگر چہ یہودی صاف طور سے نہ کہیں مگر ان کے عقائد سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ کسی حد تک یہ خدا تعالیٰ کے جسم کے قائل ہیں جیسا کہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیداکر کے ساتویں دن آرام کیا اور آرام کرنے کے لئے جسم کی ضرورت ہے کیونکہ تھکاوٹ کے بعد ہی آرام ہو تاہے اور تکلیف کے بعد ہی راحت کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اس کو مان لیتے اگر اس کے یہ معنی لئے جاتے کہ یہ ایک استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔مگر قرآن شریف نے ان کا رد کیا ہے اورفرمایا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو بنایا اور تھکا نہیں جس سے صاف طور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسوقت یہود کا مذہب یہی تھا کہ خدا درحقیقت تھک گیا اور اس کو آرام کی حاجت ہوئی اور یہود نےاس کا انکار نہیں کیا کہ ہم تو کسی تھکاوٹ کے قا ئل ہی نہیں اور یہ ہم پر تہمت لگائی