انوارالعلوم (جلد 1) — Page 643
ہو جائیں *اس سورة کے پڑھنے پر مسلم کہتا ہے آمین۔یعنی الہٰی میری اس دعا کو قبول فرما۔اس کےبعد نماز پڑھنے والا قرآن شریف کا کوئی حصہ پڑھتا ہے خواہ تھوڑاخواہ زیادہ پھر وہ اپنے ہاتھ چھوڑکر کہتا ہے الله أكبر (اللہ سب سے بڑا ہے) اور جھک جاتا ہے۔حتّٰی کہ اس کا سر اور کرایک لیول میں آجاتے ہیں اور وہ اپنے ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیتا ہے۔اور کم از کم تین دفعہ یہ الفاظ کہتا ہے۔سبحان ربي العظيم میرا بڑی عظمتوں والا رب پاک ہے۔پھر یہ الفاظ کہتا ہوا کھڑا ہو جا تا ہے اوراپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں کے ساتھ لٹکا دیتا ہے۔سمع الله لِمَن حَمِدہ، جو شخص اللہ تعالیٰ *ہر ایک مذہب نے اپنے پیرؤوں کے لئے ایک آئیڈیل مقرر کیا ہے۔مگر اسلام کا آئیڈیل سب سے اعلیٰ ہے۔جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتاکیونکہ اس دعا میں مسلمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ صراط الذین انعمت علیھم کی دعا کرے یعنی ده الله تعالیٰ سے دعامانگے کہ اسے وہی درجہ دیا جائے جو منعم علیہ گردہ کو ملا۔ایک دوسری جگہ منعم علیہ کا ذکر فرماکر قرآن شریف نے بیان فرمایا ہے کہ اس سے مراد انبیاء اور صدیق اورشہداء اور صالحین کا گروہ ہے۔ایک دوسری جگہ قرآن شریف میں ہے وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ وَ جَعَلَكُمْ مُّلُوْكًا ﳓ وَّ اٰتٰىكُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (المائده :ا۲) اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرد (یعنی اس وقت کو) جب تم میں انبیاء بھیجے اور تمہیں بادشاہت عطا کی اور تم کو دیا ہو اور کسی کو نہیں دیا تھا۔اسی طرح اور جگہوں پرفرمایا ہے کہ منعم علیہ سے مراد انبیاء ہیں۔پس اسلام نے ہر ایک مسلمان کا آخری منتهاء نظر نبوت رکھی۔یعنی وہ دعا کرتا رہے کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ نبیوں کے سلسلہ میں داخل کردے یہ وہ آئیڈیل ہے۔جو اور کسی مذہب نے مقرر نہیں کیا بلکہ ہر ایک مذہب الہام کادروازہ بند کر چکا ہےاور صرف اسلام ہی ہے۔جو اپنے پیروؤں کو سکھاتا ہے کہ الہام کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا اور یہ ممکن نہیں کہ جو خدا کسی زمانہ میں بولتا تھا اوربنی اسرائیل کے مردوں اور عورتوں سے کلام کرتاتھا اب اس نے اپنی مخلوق کی ہدایت بند کردی ہے اور کلام کرنا بند کردیا ہے اور یہ ایک ایسا آئیڈیل ہے جو باہمت انسان کو ہروقت اوپر اور اوپر اٹھاتا ہے۔اور بجائے کسی ادنی ٰ خیال کے اس کے مد نظر یہ ہوتا ہے کہ میں اس خالق ارض و سماء سے جو بادشاہوں کابادشاہ اور محبت کامل کا مالک ہے ہم کلام ہو سکتا ہوں چنانچہ مسلمانوں نے اس آئیڈیل کو مد نظر رکھ کر ہمیشہ ایسے نمونے پیش کئے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں اور ایک عظیم الشان ملہم کی تو آنحضرت ﷺنے خبر بھی دے دی تھی جس کانام اپنے مہدی اور مسیح رکھا ہے مہدی اس لحاظ سے کہ وہ اس وقت کے مسلمانوں کو جو دین اسلام کی حقیقت کو بھول کر گمراہی میں پڑ جائیں گے اوران کے اعمال و اقوال کو دیکھ کر کوئی شخص اسلام کی خوبیوں کا پتہ نہ لگا سکے گادرست کرے گا اور یہ اس لحاظ سے کہ وہ مسیح کی دوبارہ آمد کی پیشگوئی کو پورا کرے گا اور مسیح دنیاکو جو مسیح کی حقیقی تعلیم کو چھوڑ چکی ہوگی راه راست پر لائے گا۔چنانچہ وہ شخص ہندوستان کے مقام قادیان میں ظاہر بھی ہو چکا ہے اور اپنے دعویٰ کی تیسں سالہ زندگی میں اس نے خدائے تعالیٰ کے تازہ نشانات سے اسلام کی صداقت کو ثابت کردیا ہے اور اس کی تربیت سے اس وقت اس کے مریدوں میں سے ہزاروں ہیں جو خدا تعالیٰ کے الہام سے مشرف ہیں اوراس نے اپنی جماعت میں تبلیغ کی ایک ایسی روح پیدا کردی ہے کہ وہ بہت جلد دنیا کو اپنے اندر شامل کر رہے ہیں۔در حقیقت الہام کا ہرزمانہ میں جاری رہنے کا اعلان ایک ایساہمت افزا مژدہ ہے جس کی وجہ سے ایک سچے مسلمان کی ہمت کبھی شکست نہیں |ہوتی اور یہ بات مختلف مذاہب میں فیصلہ کرنے کا ایک آسان راہ ہے کیونکہ سچامذہب وہی ہوسکتا ہے جو ہمیشہ ثمرات دیتا ر ہے۔اور مذہب کاثمرہ الہام ہی ہے پس اسلام نے اپنے پیرؤوں کامنتهائے نظر دوسرے مذاہب کی نسبت بہت اعلی رکھا ہے جو کہ فطرت کے تقاضا کو پورا کرتاہے۔دہریوں کا سب سے بڑا اعتراض بھی مذہب پر یہی ہوا کرتا ہے کہ اگر خدا ہے تو کسی سے کلام کیوں نہیں کرتا لیکن اسلام پروہ یہ اعتراض | نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پرانے قصےنہیں سنا تا بلکہ اب بھی اس زمانہ کے امام اور مصلح کے تربیت یافتہ ایسے موجود ہیں جو خدا سے الہام پاتےہیں۔اگر کوئی صاحب اس مسیح و مہدی کے حالات سے زیادہ واقفیت بہم پہنچانا چاہیں تو ہم بڑی خوشی سے ایساکر سکتے ہیں وہ اس پتے پر خط و کتابت کریں۔منہ مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیان ضلع گورداسپور *ہم نے قرآن شریف کے چند کھڑے ایک دوسری جگہ دئیے ہیں تاکہ وہ لوگ جو سارا قرآن شریف میں جانتے ان کو نماز میں پڑھ سکیں۔منہ