انوارالعلوم (جلد 1) — Page 420
ان سیاحوں اور جغرافیہ والوں کی بات کو ماننا اور ان راستبازوں کی بات کو نہ ماننا کہاں کی راستبازی ہے۔اگر لندن کا وجود چند لوگوں سے سن کر ثابت ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا وجود ہزاروں راستبازوں کی گواہی پر کیوں ثابت نہیں ہو سکتا۔غرضیکہ ہزاروں راستبازوں کی شہادت جو اپنے عینی مشاہدہ پر خدا تعالیٰ کے وجود کی گواہی دیتے ہیں کسی صورت میں بھی ردّ کے قابل نہیں ہو سکتی۔تعجب ہے کہ جو اس کوچہ میں پڑے ہیں وہ تو سب باتفاق کہہ رہے ہیں کہ خدا ہے لیکن جو روحانیت کے کوچہ سے بالکل بے بہرہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کی بات نہ مانوکہ خدا ہے حالانکہ اصول شہادت کے لحاظ سے اگر دوبرابر کے راستباز آدمی بھی ایک معاملہ کے متعلق گواہی دیں تو جو کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز کود یکھا اس کی گواہی کو اس گواہی پرجو کہتا ہے میں نے اس چیز کونہیں دیکھا ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کی نظر اس چیز پر نہ پڑی ہو لیکن یہ ناممکن ہے کہ ایک نے نہ دیکھا ہو اور سمجھ لے کہ میں نے دیکھا ہے۔پس خدا کے دیکھنے والوں کی گواہی اس کے منکروں پر بہرحال حجت ہوگی۔دلیل سوم:۔تیسری دلیل جو قران شریف سے معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی فطرت خود خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک دلیل ہے کیونکہ بعض ایسے گناہ ہیں کہ جن کو فطرت انسانی قطعی طور پر ناپسند کرتی ہے۔ماں، بہن اور لڑکی کے ساتھ زنا ہے، پاخانہ پیشاب اور اس قسم کی نجاستوں کے ساتھ تعلق ہے، جھوٹ ہے، یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے ایک دہریہ بھی پرہیز کرتا ہے مگر کیوں؟ اگر کوئی خدا نہیں تو کیوں؟ وہ کیوں ماں اور بہن اور دوسری عورتوں میں کچھ فرق جانتا ہے۔جھوٹ کو کیوں برا جانتا ہے۔کیا دلائل ہیں کہ جنہوں نے مذکورہ بالا چیزوں کو اس کی نظر میں بد نما قرار دیا ہے۔اگر کسی بالائی طاقت کا رعب اس کے دل پر نہیں تو وہ کیوں ان سے احتراز کرتا ہے؟ اس کے لئے تو جھوٹ اور سچ، ظلم اور انصاف سب ایک ہی ہونا چاہئے۔جو دل کی خوشی ہوئی کرلیا۔وہ کون سی شریعت ہے جو اس کے جذبات پر حکومت کرتی ہے۔جس نے دل پر ایک تخت رکھا ہے۔اور گو ایک دہریہ زبان سے اس کی حکومت سے نکل جائے لیکن وہ اس کی بنائی ہوئی فطرت سے باہر نہیں نکل سکتا اور گناہوں سے اجتناب یا ان کے اظہار سے اجتناب اس کے لئے ایک دلیل ہے کہ کسی بادشاہ کی جوابدہی کا خوف ہے جو اس کے دل پر طاری ہے گو وہ اس کی بادشاہت کا انکار ہی کرتا ہے۔قرآن شرف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَآاُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ (القیٰمۃ (2,3) یعنی جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نہ خدا ہے نہ جزا سزا ہے۔ایسا نہیں بلکہ ہم ان امور کی شہادت