انوارالعلوم (جلد 1) — Page 419
محمد مصطفی ﷺ جس کو اسکی قوم نے بچپن سے صادق کا خطاب دیا اور جو کہتا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا (یونس 17:)میں نے تو تم میں اپنی عمرگزاری ہے۔کیا تم میرا کوئی جھوٹ ثابت کر سکتے ہو اور اس کی قوم کوئی اعتراض نہیں کرتی اور ان کے علاوہ ہزاروں راستباز جو وقتاً فوقتاً دنیا میں ہوئے ہیں،یک زبان ہوکرپکارتے ہیں کہ ایک خدا ہے اور یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے ملاقات کی اور اس سے ہم کلام ہوئے۔بڑے سے بڑے فلاسفر جنہوں نے دنیا میں کوئی کام کیا ہو وہ ان میں سے ایک کے کام کا ہزارواں حصہ بھی پیش نہیں کرسکتے بلکہ اگر ان لوگوں اور فلاسفروں کی زندگی کا مقابلہ کیا جائے تو فلاسفروں کی زندگی میں اقوال سے بڑھ کر افعال کے باب بہت کم نظر آئیں گے۔وہ صدق اور راستی جو انہوں نے دکھائی وہ فلاسفر کہاں دکھا سکے؟ وہ لوگوں کو راستی کی تعلیم دیتے ہیں مگر خود جھوٹ سے پرہیز نہیں کرتے۔لیکن اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کا نام میں اوپر لے چکا ہوں صرف راستی کی خاطر ہزاروں تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے لیکن کبھی ان کا قدم اپنی جگہ سے نہیں ہلا۔ان کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے۔ان کو وطنوں سے خارج کیا گیا، ان کو گلیوں اور بازاروں میں ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی، ان سے کل دنیا نے قطع تعلق کرلیا مگر انہوں نے اپنی بات نہ چھوڑی اور کبھی نہ کیا کہ لوگوں کی خاطر جھوٹ بول کر اپنے آپ کو بچا لیتے اور ان کے عمل نے، ان کی دنیا سے نفرت نے، نمائش سے علیحدگی نے اس بات کو ثابت کردیا کہ وہ بے غرض تھے اور کسی نفسانی غرض سے کوئی کام نہ کرتے تھے۔پھر ایسے صادق ایسے قابل اعتبار یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیںکہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی، اس کی آواز سنی اور اس کے جلوے کا مشاہدہ کیا تو ان کے قول کا انکار کرنے کی کسی کے پاس کیا وجہ ہے۔جن لوگوں کو ہم روز جھوٹ بولتے سنتے ہیں وہ بھی چند مل کر ایک بات کی گواہی دیتے ہیں تو ماننا پڑتا ہے۔جن کے احوال سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں وہ اخباروں میں اپنی تحقیقات شائع کرتے ہیں تو ہم تسلیم کرلیں گے مگر نہیں مانتے تو ان راستبازوں کا کلام نہیں مانتے۔دنیا کہتی ہے کہ لندن ایک شہر ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔جغرافیہ والے لکھتے ہیں کہ امریکہ ایک براعظم ہے اور ہم اس کی تصدیق کرتے ہیں۔سیاح کہتے ہیں کہ سائبیریا ایک وسیع اور غیرآباد علاقہ ہے۔ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے لوگوں کی گواہی اس پر ہوگئی ہے۔حالانکہ ہم ان گواہوں کے حالات سے واقف نہیں کہ وہ جھوٹے ہیں یا سچے مگر اللہ تعالیٰ کے وجود پر عینی گواہی دینے والے وہ لوگ ہیں کہ جن کی سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔انہوں نے اپنے مال وجان و طن عزت وآبرو کو تباہ کرکے راستی کو دنیا میں قائم کیا پھر