انوارالعلوم (جلد 1) — Page 307
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا مماثلت مسیحین آیاتِ صراط الذين أنعمت عليهم( الفاتحہ۰۷) ہے اور تشابهت قلوبهم (البقرہ:۱۱۹) سے ظاہرہوتا ہے کہ انبیاءؑ کی جماعتوں اور ان کے مخالفین کا ایک ہی طریق ہو تاہے۔نبیوں کی مشابہت نبیوں سے ان کی جماعتوں کی مشابہت اپنے سے پہلی جماعتوں سے اور ان کے مکفر ین کی مشابہت ان سےپہلے کے مکفرین سے ہوتی ہے۔جس طرح نبی اور ان کی جماعتیں ایک ہی راستہ پر قد م مارتے چلےجاتے ہیں۔اسی طرح ان کے مخالفوں کے پیرو بھی اپنے پیشرؤوں کی سنت پر عامل ہوتے ہیں۔خصو صاً جن انبیاء کی آپس میں مشابہت اور مماثلت ہو او را یک ہی قسم کے کام ان کے سپرد ہوں۔تو ان کے حالات تو آپس میں بہت ہی کچھ ملتے جلتے ہیں ان پر اور ان کی جماعتوں پر ایک ہی سے ابتلاء آتے ہیں۔ایک ایسے شیطانی حملے ان پر ہوتے ہیں اور ایک ہی راہ سے ان کو پھسلانے کی کو شش کی جاتی ہے ہمارے حضرت کو چونکہ حضرت مسیحؑ سے مشابہت تھی اور آپ ان کے مثیل تھے۔آپ کے واقعات بھی ان سے بہت کچھ ملتے جلتے ہیں جیسے وہاں ایک امن و امان کی سلطنت تھی۔یہاں اس سے بڑھ کر امن و امان کی حکومت ہے جیسے وہاں ایک غیر ملک کے باشندوں کی گو ر نمنٹ تھی یہاں بھی غیر ملک کے باشندوں کی گورنمنٹ ہے جیسے و ہاں تقریر و تحریرسے تبلیغ کی جاتی تھی ویسے ہی یہاں بھی کی جاتی ہے جس طرح ان پر خون کا مقدمہ کیا گیا اور آخر میں آپ کی نجات ہو گئی۔اسی طرح یہاں بھی ایک خون کا مقدمہ ہوا جس میں آخر میں آپ کی نجات ہوئی۔جس طرح وہاں کفر کے فتوے لگے یہاں بھی گئے۔اسی طرح آپ کے مخالف مولوی آپ کے پیچھے پھرتے اسی