انوارالعلوم (جلد 1) — Page 206
اپنے اندر ایک ایسی طاقت رکھتا ہو کہ ان تمام رکاوٹوں کو جو انسان اور خدا کے درمیان حائل ہوں دور کر دے اور اپنے ماننے والے کو گناہوں سے نکال کر نیکی اور تقوی کے دریا میں غوطہ د ے اورکمزرو رانسانوں کو ایسی طاقت عنایت کرے کہ وہ شیطان کے بپنجہ سے بالکل نکل جائیں اور اس کا ان پر کوئی تسلط نہ رہے اور ان کے دلوں میں رعب حق اس قدر بٹھائے کہ وہ گناہوں کے پھندوں کومکڑی کے جالوں کی طرح توڑ پھوڑ کر آزادی کی ہوا کھانے لگیں اور خدا تعالیٰ کی محبت اورعشق کو ان کے قلوب میں انیس قائم کر دے کہ گویا انسان ہر وقت خدائے تعالیٰ کی معرفت میں ڈوبا ہوا ہو اور نور ایمان کی روشنی سے اس کی زیارت میں مشغول ہو اور صفائی باطن کی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہو اور مخلوق کو خدائے تعالیٰٰ میں ہو کر مشاہدہ کرتا ہو اور اند روی بنی نو ع ہر گھڑی اس کے مد نظر ہوغرض کہ فنا فی اللہ ہو جائے اور وہ زندگی اس کو نصیب ہو کہ وہ ہر ایک چیز کو اپنی آنکھوں سے نہیں بلکہ خدا کی آنکھوں سے دیکھے۔اور جو مذہب ایسانہ کرتا ہو اور اس میں یہ طاقت ہی نہ ہو کہ وہ انسان کو جو ہر وقت محبت کی تلاش میں رہتا ہے خدا کی دائمی محبت کے چشمہ سے پانی پلائے اور اس سوز فراق کو جو محب کو اپنے محبوب کی جدائی میں ہو تا ہے وصل کی ٹھنڈک سے سرد کرے اور طالب کو مطلوب کا پتہ دے اور گمراہ کو ہدایت دے اور بھولے بھٹکوں کو راہ پر لائے اور طالبان دید کو معرفت تامہ کی آنکھوں سے خدائے تعالیٰ کا دیدار کرائے اور اس سچی صفات کو بیان کر کے مخلوق کے دلوں میں ان کی محبت کا ایک ولولہ پیدا کر دے اور ایک ایسی آگ لگا دے کہ جو دلوں کو پھونک دے اور سینوں کو جلا دے اور دنیا ومافیہا کو خاک کر کے خدا ہی خد ا کا جلوہ انسان کی آنکھوں میں ظاہر کرے اور دنیا کے سامنےوہ تجاویز پیش کرے کہ جن سےفساد دور ہوں اور دشمنیاں جاتی رہیں اور کینہ اور بغض کی آگ بھسم ہو جائے۔اور بنی نوع انسان کے لئے وہ امن کا دروازہ کھولدے کہ جس سے ان پر انعامات وکرامات الہٰیہ کی ہوا ئیں خوشگوار رنگ میں محبت کی خوشبو کو ساتھ لئے ہوئے چلیں اور وہ اپنے کانوں سے اس محبوب حقیقی کی شیریں آواز کو سنیں کہ جس کی ملاقات کی تڑپ مخلوقات کے دلوں میں روز ازل سے لگی ہوئی ہے تو ایسا مذہب جھوٹا ہے اور وہ قطعاًخد ا کی طرف سے نہیں کیونکہ اس میں اس یار یگانہ کی طرف سے کوئی نشان موجود نہیں، وہ مردہ ہے اس کو اختیار کر کے کوئی کیا کرے کیونکہ وہ انسان کو خدا سے ملاتا نہیں بلکہ دور کرتاہے اور بنی نوع انسان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ اس کو مصیبت میں ڈالتا ہے اور خود اس کے پیروؤں کو اس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔