انوارالعلوم (جلد 1) — Page 207
پس اس کھلے اور صاف معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اسلام کے سوا اور کوئی مذہب اس پر پورا نہیں اترتا۔کیونکہ اسلام قشر نہیں بلکہ ایک خوش ذائقہ مغز ہے اور مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے اور نہ صرف خود زندہ ہے بلکہ دوسروں کو بھی زندہ کرتا ہے اور اس کا ثبوت اس کے اصولوں کو دیکھنے سے خوب مل سکتا ہے چنانچہ قرآن شریف اور احادیث کو دیکھنے سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں دلائل اس مذہب کی سچائی کے ملتے ہیں جو سورج سے زیادہ روشن ہیں اورستاروں سے زیادہ چمکتے ہیں اور چاند سے زیادہ منور ہیں اور جن کے حسن کو دیکھ کر لاکھوں آدمی پروانہ کی طرح فدا ہوئے اور ہو تے ہیں اور ہوں گے۔مگر چونکہ اس مضمون پر مفصل لکھنا ایک بڑےوقت کو چاہتا ہے اور اس کے علاوہ اس رسالہ میں اس کی گنجائش بھی نہیں ہو سکتی اس لئےمیں اس موقعہ پر سورة فاتحہ سے مخقرا کچھ باتیں اخذ کر کے یہاں لکھوں گا۔ہاں امید کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کا فضل شامل حال رہاتو آئندہ ر سالہ میں اس قسم کے مضامین جو صرف اسلام کی صداقت ثابت کرنے والے ہوں دیتا رہوں گا۔سورہ فاتحہ جس پر میں اس وقت کچھ لکھنا چاہتا ہوں قرآن شریف کی سب سے پہلی سورت ہے یا یوں کہنا چاہئے کہ یہ قرآن شریف کا خلاصہ ہے اور وہ تمام معارف جو كل قرآن میں مفصل کرکےبیان کئے گئے ہیں اس میں اجمالاًبیان ہیں۔اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر محدود ہے اس لئے اس کےکلام میں بھی غیر محدود ہی معانی ہوتے ہیں چنانچہ اس سورۃ میں جو جو معانی ہیں ان پر پورے طورسے احاطہ کرنا تو ایک انسان کی طاقت سے باہر اور محال ہے ہاں فکر ہر کس بقد ر ہمت اوست۔جس قدر کسی کو نور قلب عطا ہوا ہو اور جس نے جس قدر تلاش کی ہو اور اس کو چہ میں کوشش کی ہو وہ اسی قدر فائدہ حاصل کر لیتا ہے۔چنانچہ اس سورۃ میں خدائے تعالیٰ ٰکے وجود اور پھر اس کے کلام نازل کرنے اور اسلام کی سچائی کا بڑی وضاحت سے ذکر ہے مگر چونکہ اس موقعہ پر میرے مخاطب وہی لوگ ہیں جو کہ خدائے تعالیٰ کے وجود کے قا ئل مگر اسلام کے منکر ہیں اس لئے میں وہی ثبوتپیش کروں گا جن سے عظمت قرآن ثابت ہو۔اور اس سے پہلے میں وہ آیات نقل کر دینی مناسب سمجھتا ہوں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ چنانچہ جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ سچا دین وہی ہو سکتا ہے کہ جس میں خدائے تعالیٰ اور مخلوق کے تعلق کو مضبوط کیا جائے یعنی وہ مذہب ایسی پر معرفت اور روحانیت سے بھری ہوئی باتیں۔