انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 72

لیکن انہوں نے شرک کی بیخ کنی بھی نہیں کی اور نہ ہی توحید پر زور دیا۔ہندو توحید کو ماننے کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی لازم قرار دیتے ہیں اور آریہ جو کہ توحید پر اپناپور یقین بتاتے ہیں۔روح اور مادہ کو ازلی مان کر عملی طور سے اس کا انکار کرتے ہیں۔یہ فخر صرف اسلام کو ہی ہے کہ وہ خدا کا شریک کسی کو نہیں ٹھہراتا اور شرک کی بیخ کنی کرتے ہوئے تو حید پر زوردیتا ہے ہاں صرف اسلام ہی ایک ایسان مذہب ہے جو کہ عملی طور سے توحید کو قائم کر تا بت پرستی سےباز رکھتا اور خدا کی طرح کسی کو ازلی ابدی نہیں قرار دیتا۔اگر چہ تمام مذاہب نے توحید کو چھوڑ دیالیکن اسلام کے خدا نے ہر ایک مسلمان کے دل میں اس عقیدہ کو اس طرح داخل کر دیا ہے کہ وہ نکل ہی نہیں سکتا خود خدا تعالیٰ کا نام ہی اسلام میں وہ رکھا گیا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔وہ نام اللہ ہے یعنی تمام نیک صفات خوبیوں اور طاقتوں کا مجموعہ اور یہ نام کسی اور مذہب نے اپنے خدا کو نہیں دیا۔یہ ایک ایسا پیارا نام ہے جو کہ اس ذات پاک کی تمام خوبیوں اور احسانوں کو انسان کےدل پر یک دم اس طرح نقش کر دیتا ہے کہ اس میں سے محبت کا ایک تیز شعلے نکل کر اس دوئی یاشرک کو جلا دیتا ہے جو کہ انسان کے ساتھ ایک خفیہ دشمن کی طرح لگا رہتا ہے اور ایک صلاحیت رکھنے والا انسان اس نام کو اپنی زبان پر لا کر بے چین ہو جاتا اور محبت کے درد کو محسوس کرتا ہےکیونکہ معاًاس کو خدا تعالیٰ کی خوبیاں اور اس کے محاسن کا ایک مخقر نقشہ یار آتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی طاقتوں پر نظر کر تا ہے تو اس کی بڑائی جبروت شوکت اور صولت کو دیکھ کر حیرت میں آجاتا ہے اوردنگ رہ جاتا ہے اور جب اپنی کمزوری بے بساطی بےکسی بے بسی پر نظر کر تا ہے تو حیرت تعجب اوردبدبہ محبت کی گداز کر دینے والی گرم جوشی میں بدل جاتے ہیں اور اس وقت انسان نہیں جانتا کہ میں اس محبت کو کس طرح ظاہر کروں اور وہ محبت ایسی زبردست ہوتی ہے کہ انسانی دل میں سمانہیں سکتی اور آخر آنسوؤں کے رنگ میں اس کو کسی قدر ٹھنڈا کیا جاتا ہے پھر انسان خدا تعالیٰ کی بزرگی پاکی اور قدوسیت پر نظر کرتا ہے اور ساتھ ہی اپنی گنہگاری غفلت اور سستی کو جانتا ہے تو پھر وہی پہلی حالت اس پر طاری ہو جاتی ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس مشت خاک پر یہ احسانات سوائےاس رحیم و کریم ذات کے اور کون کر سکتا ہے اور کس کی طاقت ہے کہ ہمارے گناہوں کو بخشے اورپھر ساتھ اس قدر انعامات کرے کہ زبان تو الگ رہی اگر ہزار سال تک ہمارا ہر ایک ذرہ ان کو گنے توبھی ناممکن ہے کہ گن سکے۔غرضیکہ اللہ کا نام زبان پر آتے ہی انسان کے دل و دماغ محبت کی زنجیرمیں پروئے جاتے ہیں اور جتنا اس نام کی وسعت پر غور کرو اتناہی اسلام کی سچائی کا یقین دل