انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 65

نام رب ہے پس اس آیت شریفہ میں ہے کہ سب تریں اس کے لئے جو کہ سب جہانوں کا رب ہے۔اب ربوبیت کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو ربوبیت جسمانی اور ایک روحانی۔کیونکہ انسان دو چیزوں سے مرکب ہے ایک نفس ہے جس کو عوام الناس روح کہتے ہیں اور اس لئے روح کے نام سے ہی مشہور ہے لیکن قرآن شریف روح کے معنے کلام کرتا ہے اور دوسری چیز جس سے کہ انسان مرکب ہے وہ جسم ہے پس ان دونوں کے لئے مختلف قسم کی ربوبیت کی ضرورت ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایک قسم کی ربو بیت کرتا ہے اور ہر ایک کی کرتا ہے، پس اس سےظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف اس موجودہ مذہب اسلام سے ہی دنیا کی ر بو بیت نہیں کی بلکہ روحانی ربوبیت اس سے پہلے بھی وہ کر تا رہا ہے اور مختلف قوموں اور ملکوں میں اس کی طرف سےروحانی طبیب مقرر ہوتے رہے ہیں۔اس جگہ موجودہ مذ ہب اسلام کا لفظ جو کہ میں نے استعمال کیاہے اس کے یہ معنے ہیں کہ ایک اسلام تو یہ ہے جو کہ نبی کریم ﷺکے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوامگراس سے پہلے جو مذہب ہوتے رہے ہیں وہ بھی اسلام کے مطابق ہی تھے اور خدا تعالیٰ نے ان کا نام بھی اسلام ہی رکھا ہے۔فرق یہ ہے کہ وہ مکمل نہیں تھے اور موجودہ مذہب اسلام ہر پہلو سے مکمل ہے۔غرضیکہ ربو بیت تو خدا پہلے بھی کرتا تھا مگر اس وقت یہ فرق تھا کہ وہ خاص فرقوں اور خاص ملکوں اور مقررہ وقتوں کے لئے ہوتی تھی اور وہ قواعد روحانی ربوبیت کے جو کہ خدا تعالیٰ نے مقررگئے تھے وہ ایک مدت کے بعد کچھ تو لوگ بگاڑ دیتے تھے اور کچھ زمانہ کی حالت کی وجہ سے بد لادیئےجاتے تھے۔اور اسی لئے ہمارا مذہب ہے کہ یہ تمام قومیں جو اس وقت ایسی گمراہی میں پڑ رہی ہیں کسی وقت خدا کے کلام سے مستفیض ہو چکی ہیں اور بوجہ سستی اور غفلت کے جو کہ انہوں نے خدا کےعلم سے ظاہر کی کہ اس سے دور جا پڑیں اور اس درخت کی طرح ہو گئیں جو کہ پانی سے دور ہو اور کچھ عرصہ کے بعد بالکل سوکھ جائے اور یہ کل مذاہب کے بر خلاف عقیدہ ہے یعنی ہندو عیسائی یہود اور آر یہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ سوائے ان کے کسی اور کو ہدایت ہو گی اور ان کے خیال میں ان کے اپنے بزرگوں کے سوا کسی کو کلام الہی سے حصہ نہیں ملا حالانکہ یہ صریح ظلم ہے اورزیادتی ہے کہ ایک کو تو خوب سیر کیا جائے اور دوسرا خواہ بھوک اور پیاس کے مارے تباہ ہو جائےروٹی کے ایک لقمے یا پانی کے ایک گھونٹ سے بھی محروم رکھا جائے اور چونکہ ہم اس کو ہندوؤں اور یہودیوں کے حصے میں اچھی طرح لکھ آئے ہیں اس لئے یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں غرضیکہ وہ ظلم جو کہ اورمذاہب نے جائز رکھا ہے اس کو اسلام نے مٹا دیا ہے اور وہ ظاہر