انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 57

کے اس کے ہاں پیدا ہوئے تھے اورخودوہ لڑکے جو کہ امیر کے ہاں جاکر پیدا ہو گئے ان کے اعمال تو ایسے تھے کہ وہ اس غریب کے ہاں پیدا ہو کر فاقوں سے عمرگذارتے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے تھے کہ ان کو یہ سزا دی جاتی ہے اب جووہ امیر کے گھر پیدا ہو گئے تو کسی کام کے بدلہ میں ہوئے جبکہ مسئلہ تناسخ مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایک غریب کے ہاں پیدا ہوں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عقیدہ سے جو کہ خور آریوں کا عقیدہ ہے تاریخ کی جڑ کٹ جاتی ہے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لڑکے لڑکیاں اعمال کے مطابق ہیں اپنے اختیار میں نہیں یااس کے عقیدہ کو باطل قرار دیا جائے گا اور ان دونوں صورتوں میں آریہ مت کا ابطال ہو تاہے یہ دلیل ایسی قاطع ہے کہ ضد اور ہٹ سے اگر کام نہ لیا جائے تو آریوں پر ایک بڑا سخت حربہ ہے ہاں اگر آریہ صاحبان اپنی جبلی عادت کو کام میں لا کر پھر بھی گالیوں پر اتر آئیں اور ہماری اس دلیل کوغور سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہم مسلمانوں کی طرف سے کافی دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے دیئے گئے ہیں کہ آریہ مت کو قبول کر کے ایسے پرمیشور سے معاملہ نہیں پڑتا جس سے کہ محبت کی جا سکے بلکہ سراسر اس کے بر خلاف ہے میں انتظار کرتا ہوں کہ اس اعتراض کے ہوتے ہوئے آریہ صاحبان تاریخ کی سچائی کی کیا دلیل دیتے ہیں اگرچہ یہ لازمی امر ہےکہ وہ کوئی جواب گھڑ تو ضرور لیں گے اور اس شد و مد سے اس کو بیان کریں گے گویا پائی اور حق ان کے دلوں میں بھراہواہے۔اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تناسخ خود ان کے عقیدہ کے مطابق غلط ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کا عقید و تناسخ کی نسبت زیانی تی ہے ورنہ یہ اصل میں موت کے بعد کوئی اور عالم مانتے ہی نہیں اور دہریت کی طرف بڑی تیزی سے قدم مار رہے ہیں یابالفاظ دیگر دہریہ ہی ہیں۔اور ان کے اس عقیدہ سے مادہ اور روح ازلی ہیں خدا کے علم میں بھی فرق آتا ہے کیونکہ جس چیز کو اس نے پیدا ہی نہیں کیا ان کی خاصیتوں اور ماہیتوں کا اس کو علم کو کیونکر ہوا وہ توازلی ابدی ہیں جیسا کہ پرمیشور ہے اور پرمیشور نے اس کو پیدا ہی نہیں کیا تو کیو نگران کے مخفی درمخفی رازوں سے واقف ہو گویا کم سے کم اس کو ایک مدت تجربات کرنے میں لگی ہو گی کہ وہ مادہ اور روح کی اصل حقیقت معلوم کرے جو کہ پرمیشور پر ایک بد نماد هیہ ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ پر میشور پر افتراء کیا گیاہے۔دوسری بات ان کے اعتقاد کی یہ ہے کہ خدا جب دیکھتاہے کہ تناسخ سے ایک آدمی نجات حاصل کرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ وہ اس پھیر سے بالکل بچ جائے تو وہ اس کو پر کاش میں جگہ دیتاہے جہاں کہ وہ کچھ مدت آرام سے