انوارالعلوم (جلد 1) — Page 56
ہے کیونکہ اگر یہ سچ ہو تا تو کم سے کم آریوں کے ہاں لڑکوں کی وہ کثرت ہوتی کہ دنیا دنگ رہ جاتی مگرہم ایسا نہیں دیکھتے ہیں بلکہ خود پنڈت لیکھرام کے ہاں جو کہ ان کا ایک گرو گھنٹال گذرا ہے کوئی اولادنہیں ہوتی اور اس وقت ان کے کئی بڑے بڑے لیڈروں کے ہاں نرینہ اولاد نہیں غرض کہ یہ عقیدہ عملی طور سے بالکل غلط ثابت ہوا ہے اور پھر ایک اور بات اس کو غلط ثابت کرتی ہے اور اس کے بیان کرنے سے پہلے تم کو افسوس سے یہ کہنا پڑے گا کہ دروغ گو ر احافظ نباشد اور وہ یہ ہے کہ جب پنڈت دیانند نے جو کہ ان کے مذہب کا بانی ہے تاریخیں مقرر کر دی ہیں کہ فلاں میں لڑکے اور فلاں میں لڑکیاں پیدا ہوں گی تو پھر اس بات کے کہنے کی کیا ضرورت پیش آئی کہ نیوگ میں گیارہ لڑکے ہی شمار ہوں گے اور لڑکیاں اس شمار میں نہیں ہوں گی جبکہ لڑکے پید اکرنااپنے اختیار میں ہے تو پھر لڑکیوں کا کیا ذکر۔وہ مرد جس کے اولاد نہیں ہوتی وہ خود دیکھ لے گا کہ فلاں رات لڑکا پیدا کرنے کی ہے وہ اسی دن نیوگی خاوند کو بلائے گااصلی بات وہی ہے جو کہ میں پہلے لکھاآیا ہوں کہ پنڈت دیانند کو وہ قاعدہ بھول گیا جو کہ وہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنے کی نسبت باندھ آئے تھے اور نیوگ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں فکر ہوئی کہ اگر لڑکیاں ہی پیدا ہوں تو پھر کیا ہو گا خاوندکی سب محنت رائیگاں ہو ئی اور بیوی بھی ہاتھ سے جائے گی اس لئے انہوں نے قاعدہ بنایا کہ شرط یہ ہے کہ نیوگی اولاد نرینہ ہو مگر اس طرح خود انہوں نے اس قاعدہ کو توڑ دیا جو کہ اولاد حاصل کرنےکے لئے باندھا تھا مگر اس وقت ہمارا مدعا اور تھایہ قاعدہ بذات خود تو غلط ثابت ہو ہی گیا ہے اس لئےہم اصل بات کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ آریوں کا عقیدہ ایسا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں پیدا کرنا اپنا اختیار ہے ہیں جبکہ ایسا ہے تو تناسخ غلط ٹہهرتاہے کیونکہ ایک انسان جس نے پچھلے جنم میں ایسے کام کئے تھے کہ جن کی وجہ سے اس کے لڑکے نہیں ہوئے تھے وہ اس قاعد ہ پر چل کر نرینہ اولادحاصل کر سکتا ہے پس اس سے تناسخ باطل ہو جاتا ہے تناسخ توتب صحیح تھا کہ انسان لڑکے لڑکیاں خودنہ پیدا کر سکے اور جیسے عمل کئے ہیں وی سزایا بدلہ پائے مگر اس صورت میں بدلہ نہیں رہتا بلکہ انسان کا اپنا اختیار ہو جا تا ہے اور اس طرح تناسخ رد ہو جاتا ہے پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غریب آدمی کےلڑکے ہوئے تھے اور ایک امیر کے لڑکیاں اور یہ اس لئے کہ انہوں نے پچھلے جنم اس کے مطابق کام گئے تھے مگر امیر تودیا نند کے قواعد کے مطابق لڑ کے حاصل کرتا ہے اور غریب کے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں حالانکہ وہ لڑکے تو بوجہ اس غریب کے پچھلے جنم کے کاموں