انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 607

کا م پر اس قدر عرصہ تک متواتر تو جہ نہیں کر سکتے جس کا نمونہ آنحضرت ﷺ نے دکھا یا اور جس نمونہ کو دیکھ کر نہ صرف یہ معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ نے جس کام کو اپنے ذمہ لیا تھا اس کی خوبی اور بہتری پر دل سے یقین رکھتے تھے۔کیونکہ اس قدر لمبے عرصہ تک باوجود اس قدر تکالیف کےکوئی انسان ایک ایسے امرپرجسےوہ جھوٹاخیال کرتاہوقائم نہیں رہ سکتا۔بلکہ یہ بھی کھل جا تا ہے کہ وہ کو ن سی طاقت تھی جس سے کام لے کر آپؐ نے ایسی جماعت پیدا کر دی تھی۔جس نے باوجود قلت تعدادکے سب دنیا کوفتح کر لیا تھا وہ آپؐ کا استقلال اور آپؐ کا عمل ہی تھا۔جس نے ان مٹھی بھر آدمیوں کو جو آپؐ کی صحبت میں رہنے والے تھے کل دنیا کی اصلاح کے کام کے اختیار کر نے کی جرأت دلا ئی اور صرف جرأت ہی نہیں دلا ئی بلکہ آخر دم تک ایسا آمادہ کیے رکھا کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کاکام کر کے بھی دکھا دیا۔مگر افسوس!کہ اب مسلمانوں میں وہ روح کام نہیں کر تی۔ہم نے مختصراً آنحضرت ﷺ کی زندگی سے ثابت کیا تھا کہ آپؐ میں استقلال کا مادہ ایسے درجہ تک پا یا جا تا تھا۔کہ اس کی نظیر دنیامیں ملنی مشکل ہے۔اب ہم اسی مضمون کو ایک اَور پیرا یہ میں بیان کر کے آپؐ کے استقلال کے ایک اَور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں نے انسان کے اخلاق کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور اس کی مختلف شا خوں پر نظر امعان ڈالی ہے وہ جا نتے ہیں کہ عوام میں جو اخلاق مشہور ہیں ان سے بہت زیا دہ اخلاق انسان میں پائے جا تے ہیں۔لیکن قلت تدبریا اخلاق کی کثرت کی وجہ سےیا تو سب اخلاق ابتدامیں معلوم نہیں ہو سکے یا یہ کہ ان میں سے ایک قسم کے اخلاق کا نام ایک ہی رکھ دیا گیا ہے۔اور اخلاق کی چند انواع مقرر کرکے ان کے نام رکھ دیے گئے ہیں۔اور آگے ان کی شناخت اسماء کی بجا ئے تعریف ہی کافی سمجھ لی گئی ہے۔استقلال جو ایک نہایت مفید اور دوسرے اخلاق کو چمکا دینے والا خلق ہے،اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن کا نام لغت میں موجود نہیں۔بلکہ سب اقسام کو استقلال کے نام سے ہی یاد کیا جا تا ہے لیکن انسانی اخلاق کا وسیع مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ اس خلق کی بھی کئی قسمیں ہیں۔جن میں سے دوبڑی قسمیں یہ ہیںکہ ایک استقلال وہ ہوتا ہے جس کا ظہور بڑے کاموں میںہو تا ہے اور دوسرا وہ جس کا ظہور چھوٹے کا موں میں ہو تا ہے چنانچہ انسانوں میں دو قسم کے انسان پا ئے جا تے ہیں بعض ایسے ہیں کہ اہم اور وسیع الاثر معاملات میں جب وہ لگ جا تے ہیں تو گو ان