انوارالعلوم (جلد 1) — Page 606
نیچے اتر کر ایک پتھر کے نیچے بیٹھ کر،تا دنیا اس کی عبادت میں مخل نہ ہو۔عبادت الٰہی کیا کر تا تھا۔اور انسانوں سے ایسا متنفر تھا گویا وہ سانپ ہیں یا اژدہا۔دنیا کے سامنے آتا ہے اوریاتو وہ دنیا سے بھا گتا تھا یا اب دنیا اس سےبھاگ رہی ہے۔اور اس کے نزدیک کوئی نہیں جا تا مگر وہ ہے کہ ہر ایک گھر میں گھستا ہے ہر ایک شخص کو پکڑ کر کھڑا ہو جا تا ہے۔کعبہ کے میدان میں کھڑا رہتا ہے تا کہ کو ئی شخص طواف کرنے کے لیے گھر سے نکلے تو اس سے ہی کچھ بات کر سکوں۔قافلے آتے ہیں تو لوگ تو اس لیے دوڑے جاتے ہیں کہ جا کر کچھ غلہ خرید لا ئیں یا جو اسباب تجارت وہ لا ئے ہیں اسے اپنی ضرورت کے مطا بق خرید لیں۔لیکن یہ شخص کسی تجا رت کی غرض سے نہیں بلکہ ایک حق اور صداقت کی خبر دینے کے لیے ان سے بھی آگے آگے دوڑا جاتا ہے۔اور اس کا پیغام کیا ہے جو ہر ایک انسان کو پہنچا نا چاہتا ہے وہ پیغام لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ ہے جس سے عرب ایسی وحشت کھا تے تھے کہ اگر کان میں یہ آوازپڑ جا تی تو کان میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جس کے منہ سے یہ الفاظ سنتےاس پر دیوانہ وار لپک پڑتے اور چاہتے کہ اسے ایسی سزادیں کہ جس سے بڑھ کر اَور سزا نا ممکن ہو۔مگر با وجود عربوں کی اس مخالفت کے وہ تنہائی پسند انسان،غار حراء میں دن گزارنے والا انسان ،جب موقعے پاتا یہ پیغام ان کو سناتا۔اور کسی مجلس یا کسی جماعت کا خوف یارعب اسے اس پیغام کے پہنچانے میں روک نہ ہو سکتا۔یہ کام اس نے ایک دن نہیںدو دن نہیں مہینہ نہیں دو مہینہ نہیں اپنی وفات کے دن تک کیا اور باوجود سب دنیا کی مخالفت کے اپنے کام سے باز نہ آیا۔نہ عرب کے مشرک اس کو باز رکھ سکےنہ شام کے مسیحی اس کے جوش کو کم کر سکے نہ ایران کے مجوسی اس کو سست کرسکے اور نہ مدینہ اور خیبر کے یہود اس کی راہ میں رو ک بن سکے۔ہر ایک دشمنی ،ہر ایک عداوت،ہر ایک مخالفت،ہر ایک تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک منٹ کے لیے بھی اس نے اپنی آواز نیچی نہ کی۔حتیّٰ کہ وفات کے وقت بھی یہی نصیحت کرتا گیا کہ دیکھنا خدا تعالیٰ کا شریک کسی کو نہ بنانا اور وہ وحدہٗ لاشریک ہے کوئی چیز اس کے برابر نہیں حتیّٰ کہ سب انسانوں سے افضل محمدﷺ بھی اس کا ایک بندہ اور رسول ہے۔اس کی قبر کو بھی دوسری قوموں کے دستور کے مطابق مسجد نہ بنالینا۔کیا اس استقلال کا نمونہ دنیا میں کسی اَور انسان نے بھی دکھا یا ہے؟کیا ایسےمخالفانہ حالات کے مقابلہ پر ایسا فولادی عزم کسی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے؟نہیں اور ہر گز نہیں۔لوگ ذرا ذرا سا کام کرکے تھک جا تے ہیں اور تھوڑی سی تکلیف دیکھ کر گھبرا جا تے ہیں بلکہ بغیر تکلیف کے بھی کسی