انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 542

ہو کر بھا گ نہ جا ئے۔بے شک چند آدمی آپؐ کے سا تھ اَور بھی رہ گئے تھے مگر وہ اول تو اس عشق کی وجہ سے جو انہیں رسول کریمؐ کے سا تھ تھا وہاں کھڑے رہے دوسرے ان کی جان اس خطرہ میں نہ تھی جس میں آنحضرت ﷺ کی جان تھی۔پس باوجود کمال دلیری کے آپؐ کی جرأت کا مقابلہ وہ لوگ بھی نہیں کر سکتے جو اس وقت آپؐ کے پا س کھڑے رہے۔اس جگہ ایک اَور بات بھی یا درکھنی چاہیے کہ ایسے وقت میں ایک بہادر انسان اپنی ذلت کے خوف سے جان دینے پر آمادہ بھی ہو جا ئے اور بھا گنے کا خیال چھوڑ بھی دے تب بھی وہ یہ جرأت نہیں کر سکتا کہ دشمن کوللکارے اور اگر للکارے بھی تو کمال مایوسی کا اظہار کر تا ہے اور جان دینے کے لیے آمادگی ظاہر کر تا ہے مگر آپؐ نے اس خطرناک وقت میں بھی پکار کر کہا کہ میں خد اکا نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں اور میں عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں۔جس فقرہ سے معلوم ہو تا ہے کہ اس خطرناک وقت میں بھی آپؐ گھبرائے نہیں بلکہ ان لوگوں کو پکار کر سنا دیا کہ میں سچا ہوں اور خدا کی طرف سے ہوں تم میرا کیا بگاڑ سکتے ہو۔پس ایسے خطر ناک موقع پر خون کے پیاسے دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑا رہنا پھر انہیں اپنی موجودگی کی اطلاع خود نعرہ مار کرد ینا پھر کا مل اطمینان اور یقین سے فتح کا اظہار کر نا ایسےا مور ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے کو ئی شخص میرے آقا ؐکے مقابلہ میں جرأت و دلیری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔مال کے متعلق احتیاطآنحضرت ﷺکو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق بادشاہ بھی بنا دیا تھا اور گو آپؐ کے مخالفین نے ناخنوں تک زور مارا مگر خدا کے وعدوں کو پورا ہو نے سے کون روک سکتا ہے باوجود ہزاروں بلکہ لا کھوں دشمنوںکے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنے دشمنوں پر فتح دی اور وہ سب آپؐ کے سامنے گردنیں جھکا دینے پر مجبور ہو ئے اور انہیں چارو نا چار آپؐ کے آگے سر نیاز مندی جھکا نا پڑا۔مختلف ممالک سے زکوٰۃ وصول ہو کر آنے لگی جس کا انتظام آپؐ ہی کر تے تھےمگر جس رنگ میں کر تے تھے اسے دیکھ کر سخت حیرت ہو تی ہے۔آج کل کے بادشاہوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کا روپیہ کس طرح بےدریغ اڑارہے ہیں۔وہ مال جو غرباء کے لیے جمع ہو کر آتا ہے اسے اپنے اوپر خرچ کر ڈالتے ہیں اور ان کے خزانوں کا کو ئی حساب نہیں۔اگر وہ اپنےخاص اموال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کریں تو ان پر کو ئی اعتراض نہ ہو مگر غرباء کے اموال جو صرف تقسیم کر نے کے لیے ان کے سپرد کیے جا تے ہیں ان پر بھی وہ ایسا دست تصرف پھیرتے ہیں کہ جیسے خاص ان کا اپنامال ہے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔مگر آنحضرت