انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 541

سپا ہیوں کے مارے جا نے سے نہیں پہنچتا۔پس دشمن کو جس قدر آپؐ کا تجسّس ہو سکتا تھا اَور کسی کا نہیں۔پس جبکہ اچانک دشمن کا حملہ ہوااور وہ اپنے پو رے زور سے ایک عارضی غلبہ پا نے میں کا میاب ہوا اور لشکر اسلام اپنی ایک غلطی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہواتو دشمن کے لیےایک غیر مترقبہ موقع تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ پر حملہ کر تا اور اپنے مدت کے بغض اور عنا دکو عملی جا مہ پہناتا۔پس ایسی صورت میں آپؐ کا وہاں کھڑا رہنا ایک نہایت خطرناک امر تھا جو نہایت بہادری اور جرأت چاہتا تھا اور عام عقل انسانی اس واقعہ کی تفصیل کو دیکھ کر ہی حیران ہو جا تی ہے کہ کس طرح صرف چند آدمیوں کے سا تھ آپؐ وہاں کھڑے رہے۔آپؐ کے سا تھ اس وقت بارہ ہزار بہادر سپا ہی تھے جو ایک سے ایک بڑھ کر تھا اور سینکڑوں مواقع پر کمال جرأت دکھلا چکا تھا مگر حنین میں کچھ ایسی ابتری پھیلی اور دشمن نے اچانک تیروں کی ایسی بو چھاڑ کی کہ بہادر سے بہادر سپا ہی کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ تاب مقابلہ نہ لا سکا حتّٰی کہ جنگ کا عادی بلکہ میدان جنگ کا تربیت یا فتہ عرب کا گھوڑا بھی گھبراکر بھا گا اور بعض صحابہؓ کا بیان ہے کہ اس شدت کا حملہ تھا کہ ہم باوجودکو شش کے نہ سنبھل سکتے تھے اور چاہتے تھے کہ پاؤں جما کر لڑیں مگر قدم نہ جمتے تھے اور ہم اپنے گھوڑوں کو واپس کرتے تھے لیکن گھوڑے نہ لوٹتے اور ہم اس قدر ان کی با گیں کھینچتے تھے کہ گھوڑے دوہرے ہو جا تے تھے مگر پھر آگے کو ہی بھا گتے تھے اور واپس نہ لوٹتے تھے۔پس اس خطرنا ک وقت میں جب ایک جرار لشکر پیٹھ پھیر چکا ہو ایک شخص تن تنہا صرف چند وفادار خدام کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں کھڑا رہے اور تیروں کی با رش کی ذرا بھی پروا نہ کرے تو یہ ایک ایسا فعل نہیں ہو سکتا جو کسی معمولی جرأت یا دلیری کا نتیجہ ہو بلکہ آپؐ کے اس فعل سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ اپنےسینے میں ایک ایسا دل رکھتے تھے جو کسی سے ڈرنا جانتا ہی نہ تھا اور خطرناک دشمن کے مقابلہ میں ایسے وقت جبکہ اس کے پا س کو ئی ظاہری سامان موجود نہ ہوکھڑا رہنا اس کے لیے ایک معمولی کا م تھا اور یہ ایک ایسا دلیرانہ کام ہے ایسی جرأت کا اظہار ہے کہ جس کی نظیر اولین و آخرین کی تا ریخ میں نہیں مل سکتی۔آپؐ (فدا ہ ابی و امی) خوب جا نتے تھے کہ کفار عرب کو اگر کسی جان کی ضرورت ہے تو میری جان کی۔اگر وہ کسی کے دشمن ہیں تو میرے دشمن ہیں۔اگر وہ کسی کو قتل کر نا چاہتے ہیں تو مجھے۔مگرباوجود اس علم کے باوجود بے یارو مددگار ہو نے کے آپؐ ایک قدم پیچھے نہ ہٹے بلکہ اس خیال سے کہ کہیں خچر ڈر کر نہ بھاگ جا ئے ایک آدمی کو باگ پکڑ وادی کہ اسے پکڑ کر آگے بڑھاؤ تا یہ بے بس