انوارالعلوم (جلد 1) — Page 510
ہے لیکن اس سے زیا دہ اور کو ئی نتیجہ نہیں نکلتا لیکن رسول کریمﷺ صرف اسی پر اکتفا نہ کر سکتے تھے آپؐ ایک طرف توکُل لغویات کو مٹانا چاہتے تھے دوسری طرف آپؐ کےدل میں یہ جوش موجزن رہتا کہ خدا تعالیٰ کے نام کی کثرت ہو اور ہر ایک مجلس او ر مقام میں اسی کا ذکر کیا جائے اس لیے آپ نے بجائے ان بے معنی اشارات کے جن سے گواشارۃً حصول مطلب ہو جا تا تھا ایسے الفاظ مقرر کیے کہ جن سے نہ صرف حصول مطلب ہو تا ہے بلکہ انسان کی رو حانیت میں ازدیاد کا باعث ہے اور عین موقع کے مناسب ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کا ذکر بھی ہو جا تا ہے۔یادرکھنا چاہیے کہ انسان جب کبھی کسی شَے کی طرف تو جہ کر تا ہے اسے نا پسند کر نے کی وجہ سے یا پسند یدگی کے باعث۔تو ان دونوں صورتوں میں سبحان اللہ کے کلمہ کا استعمال نہایت باموقع اور با محل ہے۔اگر کسی انسان کے کسی فعل کو نا پسند کر تا ہے تو سبحا ن اللہ اس لیے کہتا ہے کہ آپ سے کو ئی سہو ہواہے۔سہو سے تو صرف خدا کی ہی ذات پاک ہے ورنہ ہر ایک انسان سے سہو ممکن ہے۔اس مفہوم کو سمجھ کر آدمی اپنی غلطی پر متنبہ ہو جا تا ہے اسی طرح اگر کو ئی شخص کو ئی عمدہ کام کرے تو اس میں بھی سبحان اللہ کہا جاتا ہے جس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام نقصوں سے پاک ہے اور جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اسے بھی پاک ہی پیدا کیا ہے یہ کام جو کسی سے سر زد ہواہے یا یہ قول جوکسی کی زبان پرجاری ہواہے اپنی خوبی اور حسن میں خد اتعالیٰ کی پا کیزگی اور طہارت یاد دلاتا ہے جو تمام خوبیوں کا پیدا کرنے و الا ہے۔غرض کہ سبحان اللہ کا کلمہ اس ضرورت کو پورا کر تا ہے جس کے لیے تو جہ دلا ئی جا تی ہے اور افسوس اور خوشی دونوں کا اظہار اس سے ایسی عمدگی سے ہو تا ہے جو اور کسی کلمہ سے نہیں ہو سکتا۔پس اس کلمہ کے مقابلہ میں تا لیاں بجانا اور سیٹیاں مارنا بالکل لغو اور بے فائدہے اور ان لغو حرکات کے مقابلہ پر ایسا پاک کلمہ رکھ دینا رسول کریم ؐ کی ہی پاک طبیعت کا کام تھا ورنہ ہزاروں سال سے اس لغو حرکت کو روکنےکی کسی اور کے دل میں تحریک نہیں ہو ئی ہاں صرف رسول کریم ؐ ہی ہیں جو اس نکتہ تک پہنچے اور آپ نے ایسے موقع پر خدا تعالیٰ کا نام لینے کی تعلیم دے کر ثابت کر دیا ہے کہ آپ ؐ ہر ایک موقع پر خدا تعالیٰ کا ذکر کر نا پسند فرماتے اور اسی کا ذکر آپؐ کے لیے غذا تھا۔اس واقعہ کے علاوہ بہت سے واقعات ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ذکر زیادہ کیا جائے چنانچہ چھینک پر،کھانا شروع کرتے وقت،پھر ختم ہونے کے بعد،سوتے وقت ،جاگتے وقت،نمازوں کے بعد،کو ئی بڑا کام کر تے وقت، وضو کرتے وقت غرضیکہ اکثر