انوارالعلوم (جلد 1) — Page 511
اعمال میں آپ نے خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا ہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ آپ نہ صرف خود ہی ذکر الہٰی میں زیادہ مشغول رہتے تھے بلکہ دوسروں سے بھی چاہتے تھے کہ وہ بھی یاد الہٰی میں مشغول رہیں جو کہ آپؐ کے کمال محبت پر دال ہے۔میں نے بہت آدمی دیکھے ہیں کہ ذرا عبادت کی اور مغرور ہو گئے چند دن کی نمازوں یا عبادتوں کے بعد وہ اپنے آپ کو فرعون بے سامان یا فخرِاولیاء سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا ومافیھاان کی نظروں میں حقیر ہو جا تی ہے بڑے سےبڑے آدمی کی حقیقت کچھ نہیں جانتے بلکہ انسان کا تو کیا کہنا ہے خدا تعالیٰ پر بھی اپنا احسان جتاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو عبادات ہم نے کی ہیں گو یا خدا تعالیٰ پر احسان کیا ہےاور وہ ہمارا ممنون ہے کہ ہم نےاس کی عبادت کی ورنہ اگر عبادت نہ کر تے تو وہ کیا کر لیتا جو لوگ اس طرز کے نہیں ہو تے ان میں سے بھی اکثر ایسے دیکھے گئے ہیں کہ عبادت کرکے کچھ تکبر ضرور آجاتا ہے اور بہت ہی کم ہیں کہ جو عبادت کےبعدبھی اپنی حالت پر قائم رہیں او ریہی نیکوں کا گروہ ہے پھر سمجھ سکتے ہو کہ نیکوں کے سردار اور نبیوں کے سر بر آور دہ حضرت رسول کریم ﷺ کا کیا حال ہو گا۔آپؐ تو کُل خوبیوں کے جامع اور کل نیکیوں کے سر چشمہ تھے عبادت کسی تکبر یا بڑا ئی کے لیے کر نا تو الگ رہا جس قدر خدا تعالیٰ کی بندگی بجالاتے اتنی ہی ان کی آتش شوق تیز ہوتی اور آپؐ بجائے عبادت پر خدا تعالیٰ کو اپنا ممنون احسان بنانے کے خود شرمندہ احسان ہو تے کہ الہٰی اس قدر توفیق جو عبادت کی ملتی ہے تو تیرے ہی فضل سے ملتی ہے۔آپؐ کی عبادت ایک تسلسل کا رنگ رکھتی ہے کچھ حصہ وقت جب عبادت میں گذارتے تو خیال کرتے کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے اس کام کی تو فیق دی اس احسان کا شکر بجالانا ضروری ہے اس جذبہ ادائیگی شکر سے بے اختیارہو کر کچھ اور عبادت کر تے اور پھر اسے بھی خدا تعالیٰ کا ایک احسان سمجھتے کہ شکر بجالانا بھی ہر ایک کا کام نہیں جب تک خدا تعالیٰ کا احسان نہ ہو۔پھراوربھی زیا دہ شوق کی جلوہ نما ئی ہو تی او رپھر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جا تے او ریہ راز ونیاز کا سلسلہ ایسا وسیع ہو تا کہ بارہا عبادت کر تے کرتے آپؐ کے پاؤں سوج جا تے صحابہؓ عرض کر تے یا رسول اللہ اس قدر عبادت کی آپؐ کو کیا حاجت ہے آپؐ کے تو گناہ معاف ہو چکے ہیں اس کا جواب آپؐ یہی دیتے کہ پھر کیا میں شکر نہ کروں۔حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں اِنْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیَقُوْمُ لِیُصَلِّی