انوارالعلوم (جلد 1) — Page 456
باب سوم اخلاق پر مجموعی بحثپیشتر اس کے کہ میں آنحضرت ﷺ کے اخلاقِ پاکیزہ کا فرداً فرداً ذکر کروں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون پر ایک مجموعی حیثیت سے بھی روشنی ڈالوں جس سے پڑھنے والے کو پہلے ہی سے تنبیہ ہو جا ئے کہ کس طرح آپؐ ہر پہلو سے کامل تھے اور اخلاق کی تمام شاخوں میںآپؐ دوسروں کی نسبت بہت آگے بڑھے ہو ئے تھے۔اس بات کے مفصل ثبوت کے لیے تو انسان کو احادیث کا مطالعہ کر نا چاہیے کیونکہ جب آ پؐ کا سلوک صحابہ ؓ سے اور ان کا عشق آپؐ سے دیکھا جا ئے تو بے اختیار منہ سے نکل جا تا ہے؎ مرحبا احمدؐ مکی مدنی العربی دل وجاں بادفدایت چہ عجب خوش لقبی لیکن اس جگہ میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عرب ایک وحشی قوم تھی اور وہ کسی کی اطاعت کر نا حتی الوسع عار جا نتی تھی اور اسی لیے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا انہیں گوارہ نہ تھا بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کر تے تھے۔یہاں تک کہ قیصرو کسریٰ کی حکومتیں ان کے دونوں طرف پھیلی ہو ئی تھیں لیکن ان کی وحشت اور آزادی کی محبت کو دیکھ کر وہ بھی عرب کو فتح کرنے کا خیال نہ کر تی تھیں۔عمر وبن ہند جیسا زبردست بادشاہ جس نے اردگرد کے علاقوں پر بڑا رعب جمایا ہو ٔا تھا وہ بھی بدوی قبائل کو روپیہ وغیرہ سے بمشکل اپنے قابو میں لا سکا اور پھر بھی یہ حالت تھی کہ ذرا ذرا سی بات پر وہ اسے صاف جواب دے دیتے تھے اور اس کے منہ پر کہہ دیتے تھے کہ ہم تیرے نوکر نہیں کہ تیری فرمانبرداری کریں چنانچہ لکھا ہے کہ عمر وبن ہند نے اپنے سرداروں سے پوچھا کہ کیا کو ئی شخص ایسا بھی ہے کہ جس کی ماں میری ماں کی خدمت کرنے سے عار کرے۔اس کے مصاحبوں نے جواب دیا کہ ایک شخص عمروبن کلثوم ہے اور عرب قبیلہ بنی تغلب کا سردار ہے۔اس کی ماں بے شک آپ کی ماں کی خدمت سے احتراز کرے گی اور اسے اپنے لیے عار