انوارالعلوم (جلد 1) — Page 455
ہیں کہ کَانَ اِذَااٰوٰی اِلیٰ فِرَاشِہٖ کُلَّ لَیلَۃٍ جَمَعَ کَفَّیْہِ ثُمَّ نَفَثَ فِیْھِمَا فَقَرَ أَ فِیْھِمَا قُلْ ھُوَااللہُ اَحَدٌ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ یَمْسَحُ بِھِمَا مَااسْتَطَاعَ مِنْ جسدہ یبدَأُ بِھما عَلٰی رَأْسِہٖ وَوَجْھَہٖ وَمَا اَقْبَل مِنْ جسدِہ یفعلُ ذٰلک ثلاثَ مَرَّاتٍ(بخاری کتاب التفسیر باب فضل المعوّذات) یعنی آپؐ ہر شب جب اپنے بستر پر جا تے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملاتے پھر ان میں پھونکتے اورقل ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھتے۔پھر جہاں تک ہوسکتا اپنے بدن پر ہا تھ ملتے اور ابتدا سر اور منہ اور جسم کے اگلے حصہ سے فرماتے اور تین دفعہ ایسا ہی کر تے۔ذرا ان تین سورتوں کو با ترجمہ پڑھو اور پھر سوچو کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غنیٰ پر کتنا ایمان تھا۔کس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ کے بغیر اپنی زندگی خطرہ میں سمجھتے تھے۔