انوارالعلوم (جلد 1) — Page 403
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم خدا کے فرستادہ پر ایمان لاؤ وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (آل عمران۔۱۴۵ ( (محمد ایک رسول ہی ہیں ان سے پہلے سب رسول وفات پا چکے) قرآن مجید میں آیت موجود ہے۔خلت کے معنی بھی قرآن مجیدہی سےحل ہوتے ہیں۔جیسا کہ اس کے آگے فرمایا اَفَاىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ (آل عمران، ۴۵ ا)یعنی خلا کی دو ہی صورتیں ہیں۔موت یا قتل۔تیسری صورت کے لئے الى ٰصلہ آتا ہے پھر معلوم نہیں عیسیٰؑ علیہ السلام کی وفات میں کون سا شبہ باقی رہ جاتا ہے جبکہ آنخضرت اﷺنے اپنی رؤیت بیان فرمائی کہ شبِ معراج ان کو فوت شده انبیاء ؑ کی ارواح کے ساتھ دیکھا اور حضرت ابو بکرؓ نے وفات النبی ﷺکے روز یہی آیت پڑھ کر نبی کریم ﷺ کی وفات پر استدلال فرمایا جو بھی کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اگلے تمام انبیاءؑ کی وفات کو نہ مان لیا جاوے۔پھر نہ توفيها تحیون و فيها تموتون (الأعراف ۲۶) (اسی زمین میں زندہ رہتے ہو اور اسی زمین میں مروگے) ان کو آسمان پر جانے دیتا ہے اور نہ رفعہ الله إليه( النساء: ۱۵۹) سے ان کی رفعت جسمانی ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ یہود کے جواب میں فرمایا جو انہیں مقتول بالصليب کر کے ملعون بنانا چاہتے تھے مگر خدا نے جیسا کہ اس کا وعدہ تھا کہ انی متوفيك ورافعك إلی۔(آل عمران:۵۶) ان کو وفات دے کر وہ رفع دیا جو اپنے تمام پیاروں کو دیا کرتا ہے۔پھرفيمسك التی قضی عليها الموت (الزمر: ۴۳) سے اللہ تعالیٰ نے اپنایہ کلیہ بھی فرما دیا کہ ارواح موت کے بعد رو کی جاتی ہیں اور مردہ دوبارہ زندہ ہو کر اس دنیا میں نہیں آتاا نهم اليھم لا ير جعون (یس : ۳۲) تو مسیحؑ جو وفات پا چکا ہے وہ کس طرح آسکتا ہے۔اِلاَّ اسی رنگ میں جیسے الیاسؑ يوحنا کے رنگ میں آیا اور حضرت عیسیٰؑ نے تمام یہود کو اپنا یہ فیصلہ سنا دیا کہ جس ایلیا