انوارالعلوم (جلد 1) — Page 7
یہ خیال پیدا ہو کہ میں نے شرک کا اس طرح بیان کیا ہے گویا کہ دنیا میں اور کوئی گناہ ہے ہی نہیں۔لیکن نہیں میرا مطلب یہ نہیں بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ شرک میں سے دوسرے گناہ بھی پیدا ہوتےہیں۔شرک کی حقیقت جب ایک انسان شرک سے بالکل پاک ہو تو کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ گناہ کرے۔کیوں کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی کل صفات پر ایمان رکھتا ہے توکوئی برائی نہیں کر سکتا۔چور جب چوری کو جا تا ہے۔اگر اس کو یہ ایمان ہو کہ ایک خدا ہے جو کہ دیکھتا ہے اور گناہ کی سزادیتا ہے تو پھر وہ بھی چوری نہیں کر سکتا اسی طرح دوسرے گناہ کرنے والےاگر بجائے مخلوق الٰہی سے ڈرنے کے خود خالق سے ہی ڈریں تو وہ ان تمام فریبوں اور گندگیوں کوچھوڑ دیں جو کہ بصورت دیگر ان کے دلوں میں جاگزیں ہوتے ہیں۔پس جو شرک کو چھوڑتا ہے وه |کبھی کوئی گناہ نہیں کر سکتا جس کا کہ اس کو علم ہو اور بے علمی کی خطاء کو تو خدا بھی نہیں پکڑتا۔اس لئے حدیث شریف میں آیا ہے کہ من قال لا إله إلا الله،فدخل الجنة (یعنی جو کوئی کامل طورسے شرک کو چھوڑ دے وہ جنت میں داخل ہو گا) کیوں کہ جب وہ شرک کو چھوڑ دے گا اور حقیقی طور سے خدا کو واحد اور اس کی صفات کو برحق مان لے گا تو وہ کوئی اور گناہ کرے گاہی نہیں اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ انعامات الٰہیہ کا مورد ہو۔ایسے آدی کا چلنا پھرنا کھانا اور پیناسب خدا کے ہی لئے ہوتا ہے یعنی جب وہ بولتا ہے تو خدا کے لئے بولتا ہے۔سنتا ہے تو خدا کے لئے سنتا ہے۔کھا تا ہےتو خدا کے لئے کھانا ہے اور پیتا ہے تو خدا کے لئے۔اس وقت شیطان بھی اس کے قریب نہیں جاتا۔گویا کہ ایسے آدمی کا شیطان بھی مسلمان ہو جا تا ہے۔جیسا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میراشیطان بھی مسلمان ہو گیا ہے۔پس جب انسان اس حد تک اپنے دل کو پاک و صاف کرلیتا ہے تو وہ خدا کا اور خدا اس کا ہو جاتا ہے۔ایسے ہی شخص کے لئے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔یاَ اٴَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةّ ارْجِعِی اِٴلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً فَادْخُلِی فِی عِبَادِی وَ ادْخُلِی جَنَّتِی (الفجر: ۲۸-۳۱) اس موقعہ پر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہےکہ اے نفس مطمئنہ میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔پس کیادو سرےلوگ خدا تعالیٰ کی مخلوق نہیں ہیں۔وہ ہیں مگر اس جگہ خدا تعالیٰ ایک استعارہ بیان فرماتا ہے کہ بندہ تووہ ہے جو اپنے آپ کو بندہ ہونے کے لائق بھی بناوے۔جو طرح طرح کے شرکوں میں اور مختلف قسم کی بدعتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کا نفس نفس امارہ ہے تو کیوں کر وہ میرے بندے ہو سکتے ہیں۔