انوارالعلوم (جلد 1) — Page 6
پس اس سے بچنے کے لئے انسان کو کامل تقوی اور پرہیز گاری کی ضرورت ہے۔انسان کوچاہئے کہ ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے خدا تعالیٰ کی صفات کو رکھے تاکہ ہر گھڑی اس کا دل خدا کی طرف جھکا رہے اور خدا بھی اس پر اپنا سایہ ڈالے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اوپر کی طرف اس نے شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھی ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ وہ دوڑ کے خدا کے سایہ کے نیچے آجاوے۔کیوں کہ جو اس کے سایہ کے نیچے آجاتا ہے وہ شیطان کے حملوں سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے تو شیطان کتنا ہی زور خرچ کرے کہ کسی طرح اس مرد صالح کو پھسلائے۔مگر خدا تعالیٰ کی قہروالی نظر اس کو جلا دیتی ہے او راس کو مجال نہیں ہوتی کہ وہ پھراس انسان کی طرف نظر بد سے دیکھ بھی سکے۔اور اگر بجائے اس کے ہم سستی کریں اور غفلت کو کام میں لاویں میں تو ہم کو ایک دم کی بھی فرصت نہیں ملتی کہ ہم اپنے آپ کو اس جنگ کے لئے تیار کریں جو کہ یک لخت ہم کو شیطان سےپیش آتی ہے۔ایسی حالت میں وہ ہمارے ایمان کو اچک لے جاتا ہے اور ہم کو تہی دست چھوڑ جاتاہے۔مگر ہم بکریوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی کمزور اور شیطان ایک طاقتور بھیٹر یا ہے پس جب تک ہم خداجو کہ ہمارا نگہبان ہے اس کے سامنے ہیں تب تک تو شیطان کے خونخوار حملہ سے محفوظ ہیں مگر جب ذراسی غفلت کی وجہ سے ہم اس کی نظروں سے اوجھل ہو ئے کہ شیطان نے ہم کو ایک ہی حملہ میں مغلوب کر لیا۔خدا کی نظروں سے غائب ہونے کے یہ معنے نہیں کہ کبھی ایسا بھی موقعہ آجاتا ہے کہ خدا ہم کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو بصیر ہے۔میری اس سے یہ مراد ہے کہ جب ہم اس کی خاص نظرِکرم کو اپنی کسی بد کرداری کی وجہ سے دور کر دیں۔اور اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے زیادہ اور زیادہ قریب ہونے کی کوشش کریں۔اور اس کے لئے وہ ہم سے وعدہ کرتا ہے کہ جب ایک قدم تم میری طرف آئے تو میں دو قدم تمہاری طرف آؤں گا اگر تم میری طرف تیز چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔پس جب تک ہم خدا تعالیٰ کی طرف تیز قدموں سے بلکہ دوڑ کر نہ جائیں گے ہماری ایسی حالت ہے جیسا کہ ایک بندھی ہوئی بکری بھیٹریئے کے سامنے اور جس کو کہ بھیڑ یا ایک ہی حملہ سے اچک کر لے جاوے گا۔شرک سے دوسرے گناہ پیدا ہوتے ہیںپس ہر کام کے کرتے ہوئے اور ہر لفظ کے بولتے ہوئے شرک کادھیان کرلو تاکہ ایسا نہ ہو کہ خدا تعالیٰ سے دور اور شیطان کے شکار ہو جاؤ - اس وقت ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے دل میں