انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 328

ہو گا پس تم ایسا ہی کیا کرو۔کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہوجائیں اور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کر تاہےاور ہر ایک حال میں مجھے حَکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھےدل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختياری پاؤ گے پس جانو کہ وہ مجھ سے نہیں ہے کیونکہ میری باتوں کو جو خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں‘‘ ٍاب اس عبارت پر غور کرنے سے اول تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ جو شخص غیر احمد ی کے پیچھے نمازپڑتا ہے یا غیر احمدیوں سے تعلق رکھتا ہے وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوتا ہے جو قطعی حرام ہےدوسرے یہ کہ ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم غیراحمدیوں سے قطعی طور سے الگ رہیں۔تیسرے یہ کہ جو ایسا نہیں کرتا اس پر خدا کا الزام ہے۔چوتھے یہ کہ ایسے شخص کے اعمال حبط ہو جائیں گے۔پانچویں یہ کہ جو حضرت صاحب کا دل سے معتقد ہے وہ آپ کے اس فیصلہ اور دیگر فیصلوں کو مانتاہے۔چھٹے یہ کہ جو نہیں مانتا اس کے دل میں خود اختیاری کا مرض ہے۔ساتویں یہ کہ حضرت صاحب ان الفاظ میں کہ وہ مجھ سے نہیں اس سے قطع تعلق کرتے ہیں۔آٹھویں یہ کہ ایساکرنے والے کی عزت آسمان پر بھی نہیں کی جائے گی اب باوجود ان فتووں کے ہم کیا کریں اور کسی طرح ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو جائیں جو ہلاکت کے گڑھے کی طرف ہم کو بلاتے ہیں۔قرآنی شہاد تیںاب ایک طرف تو خدا کا کلام ہم کو اپنی طرف بلاتا ہے اور دوسری طرف چنداور جن کے ایمانوں کا ہم کو کوئی علم نہیں بلکہ وہ صریح طور سے ایک مامورکے مکفّر ہیں ہم کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ہیں بہتر ہے کہ ہم خدا کی آواز کو قبول کریں اور جس طرح پہلی دفعہ ہم نے انسانوں پر خدا کے احکام کو مقدم کیا اب بھی وہی نمونے دکھائیں حضرت صاحب خدا سے خبرپا کر فرماتے ہیں کہ مجھے نہ قبول کرنے والوں کو راست باز جاننے والا ان کے پیچھے نمازپڑھنے والا اور ان سے بکلیّ قطع تعلق نہ کرنے والا شیطان کے پنجہ میں ہے اور آپ پر ایمان نہیں رکھتا اس کے اعمال حبط ہو جائیں گے اور آسمان پر اس کی عزت نہ ہوگی پس ہمارے لئے کیساخطرناک ابتلاء ہے ایک طرف تو ظاہری چین اور امن نظر آرہا ہے۔دشمنوں کی نظروں میں ایک عزت ہوتی ہے اور شاید گورنمنٹ کی نظروں میں بو جہ سرگروہ سے تعلق ہو جانے کے زیادہ وقعت پانے کی امید ہے اور دوسری طرف خدا کے مامور کا فتوی ٰہے کہ اگر تم ان سے بکلی قطع تعلق نہیںG