انوارالعلوم (جلد 1) — Page 329
کرتے تو پھر تمهار امجھ سے قطع تعلق ہے اگر عاجلہ کو دیکھا جائے تو پہلی بات میں فائدہ ہے لیکن اگر يوم ثقیل کا خیال کیا جائے تو سوائے دوسری بات پر عمل کرنے کے کوئی چارہ نہیں ہم ان لوگوں سےصلح کرتے ہوئے ان آیات قرآنی کو کہاں چھپائیںالَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ (النساء :۱۴۰ ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَؕ-اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا(النساء : ۱۴۵) اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍۙ-وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًاۙ(۱۵۰)اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا (النساء :۱۵۱،۱۵۲) اور خصوصیت سے آخری آیت میں تو ہم خاص طور سے اسی گروہ کاذ کر پاتے ہیں جو مدعی ہیں کہ ہم مرزا صاحب کو مسلمان متقی اور راست باز انسان مانتے ہیں لیکن نبی نہیں مانتے اور جو کہتے ہیں کہ نجات ایمان باللہ پر ہے نہ ایمان بالرسل پر اور جن کا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ کے انکارکی وجہ سے عذاب ہو بھی لیکن مرزا صاحب کے نہ ماننے کا کوئی ہرج نہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہےکہ یہ لوگ جھوٹے ہیں اور پکےّ کافر ہیں اور الله تعالیٰ کے حضور عذاب کے مستحق ہیں اور حضرت صاحب ؑبھی فرماتے ہیں کہ من فرق بيني و بين المصطفى فماعرفنی ومارأی، اور پھر فرماتا ہے کہ من اظلم ممن افترى على اللہ کزبا او کذب باٰیتہ بايته (الانعام:۲۲) پس باو جووان صریح نصوص کے ہم کیونکر انکار کر دیں اور کہہ دیں کہ تمام رسولوں کا ماننا ضروری نہیں اور یہ کہ مسیح موعودؑ کا ماننا مدار نجات میں شامل نہیں اگر ہم ایسا کہیں تو ہم بھی اسی گروہ میں شامل ہو جائیں گے جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّاۚ-وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا (النساء : ۵۲) اور جن کی نسبت فرماتا ہے او کذب باٰیتہ(فنعوذ باللہ من ذالک الکذب والبھتان و بفضلہ من ھمزات الشیطان) اور اگر ہم ایسا کریں تو گویا عبدالحکیم مرتد کی پیشگو ئی کو پورا کر دیں اور شیطان کے مؤید ہو جائیں کیونکہ اس کی مخالفت بھی اس بات پر ہوئی تھی اور وہ جماعت سے اسی لئے خارج کیا گیا تھا کہ اس کا دعوی تھا کہ سوائے ان چند مکفّرین کے جنہوں نے مخالفت میں زور مارا ہے باقی سب ناجی ہونے چاہئیں اور کفر کا فتویٰ ان پر نہیں دینا چاہیئے پس ہمارا بھی ایسے ہی عقائد رکھنا گویا عبد الحکیم کی پیروی کرنا اور حضرت مسیح موعودؑ کا انکار کرنا ہے اور اس کی شیطانی پیشگوئی کو پورا کرنا ہے کہ عنقریب مرزائی مرزا صاحب پر ایمان کو غیر