انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 282

سخت مصیبتوں کے اور دشمنوں کے حملہ کے کامیاب ہوا۔خدا کا بیٹا کھلانے کا مستحق ہے یا وہ جومقابلۃً چین اور آرام سے زندگی بسر کر رہا تھا اور جس کے راستہ میں کوئی سخت رکاوٹیں نہیں تھیں۔مگر باوجود اس کے ناکامی و نامرادی سے اس دنیا سے گزر گیا۔(بقول مسیحی صاحبان کے) یہ تو دنیاوی کامیابی ہوئی علاوہ اس کے کامل تعلیم سچے اور تمام مرید اور پاک زندگی اور بےنظیر معجزات اور قدسی صفات کے لحاظ سے بھی رسول اللہ ﷺکو مسیح ؑپر بد رجہافضیلت تھی۔پس کوئی رنگ بھی لے لو اور کسی طریق پر بھی آپﷺ کا مسیحؑ سے مقابلہ کرلو۔آپﷺ کی فضیلت مسیح ؑ پر ثابت ہے۔پس اگر کسی معنے میں کوئی خدا کا بیٹا کہلا سکتا ہے۔تو وہ رسول اللہ ﷺہیں نہ کہ مسیحؑ۔علاوہ ازیں مسیح ؑنے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا بھی نہیں بلکہ وہ تو ہمیشہ ابن آدم ہی کہلا تارہا۔ہاں اگر سمجھیں۔خداکے بیٹے کا لفظ اس نے اپنے لئے استعمال کیا بھی تو ان معنوں میں تو بہت سے آدمي خد اکے بیٹے ہیں۔مثلاً کل یہودیوں کی نسبت توریت میں ہے کہ ’’تب تو فرعون کو یوں کہیو کہ خداوند نے یوں فرمایا ہے کہ اسرائیل میرابیٹا بلکہ پلوٹھا ہے، خروج ۴ آیت۲۲) سواس آیت سے تو کل بنی اسرائیلی خدا کے بیٹے بلکہ پلوٹھے معلوم ہوتے ہیں مسیحؑ کی خصوصیت ہی کیا ہے۔یسوع صلیب پر خوشی سے نہیں چڑھااس کے بعد جو بات کفار کے مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہے یہ ہے کہ آیا مسیحؑ صلیب پر لٹکایا جانے کے لئےخوش بھی تھایا نہیں۔اگر وہ ناراض تھا تو پھر کفارہ کا مسئلہ کسی طرح بھی صادق نہیں ہو سکتا۔اور اسکے لئے ہم کو دور جانے کی ضرورت نہیں خود مسیحؑ کی اس وقت کی حالت کا بیان کافی ہو گا۔چنانچہ متی ۲۶ آیت ۳۶ تا ۴۰ میں لکھا ہے کہ \" پھر یسوع ان کے ساتھ گتسمنی نام ایک مقام پر آیا۔اورشاگردوں سے کہا یہاں بیٹھو جب تک میں وہاں جا کر دعا مانگوں تب اس نے پطرسں اور زبدی کے دوبیٹے ساتھ لئے اور غمگین او در نہایت دلگیر ہونے لگا۔تب اس نے ان سے کہا کہ میرا دل نہایت غمگین ہے بلکہ میری موت کی سی حالت ہے۔تم یہاں ٹھہرو اور میرے ساتھ جاگتے رہو اور کچھ آگے بڑھ کر منہ کے بل گرا۔اور دعامانگتے ہوئے کہا کہ اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سےگزر جائے تو بھی میری خواہش نہیں بلکہ میری خواہش کے مطابق ہو‘‘۔پھر لوقا ۲۴ آیت ۳۹ تا ۴۶میں ہے کہ \"اور وہ نکل سکے اپنے دستور پر زیتون کے پہاڑ کی طرف چلا۔اور اس کے شاگر داس کےپیچھے ہو لئے اور اس جگہ پہنچے اس نے ان سے کماد عاما نگو تاکہ آزمائش میں نہ پڑو اور اس نے ان سے تیر کے ایک ٹپے پر بڑھ کے گھٹنے ٹیک کر دعامانگی۔اور کہا کہ اے باپ اگر تو چاہے تو یہ پیالہ مجھ