انوارالعلوم (جلد 1) — Page 279
دکھلاتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کس کو دوسرے پر فضیلت ہے۔مسیحؑ کی پیدائش جس ملک میں ہوئی ہے وہ اپنے وقت میں امن و امان کے لئے مشہور تھا۔لیکن اس کے بر خلاف رسول اللهﷺ جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں وہ اپنے فسادوں اور جنگوں کے لئے شہرۂ آفاق تھا۔اور ان دونوں باتوں کومدنظر رکھ کر ایک عقلمند انسان خوب سمجھ سکتا ہے کہ آپ ﷺکو اس ملک کے درست کرنے کے لئےکیا کیا مشکلات پیش آسکتی تھیں اور بر خلاف اس کےمسیحؑ کس امن و چین میں تھا۔کیونکہ یروشلم پراس وقت رومیوں کی حکومت تھی جو کہ اپنے وقت میں قانون کی پابندی کے لئے ایک خاص شہرت رکھتے تھے اور ان کے ملک میں کسی کی مجال نہ تھی کہ کسی شخص پر بلا قانون کے ظلم کر سکے۔پس مسیحؑ کا اس ملک میں پیدا ہونا اس کے لئے بہت ہی آسانیوں کا باعث تھا کیونکہ گو اس کے مخالف اس کی تعلیمات کے اور اس کی جان کے ہی مخالف ہوں لیکن جوش کے ماتحت اس پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔اور گو وه غضب میں اندھے بھی ہو جاتے مگر ان کے لئے بغیر قانون کی آڑ کے اور کوئی وسیلہ نہ تھاجس سے مسیحؑ کو سیدھا کر سکیں۔بر خلاف اس کے رسول اللہ ﷺ کو جس قوم سے واسطہ پڑا تھاوہ اپنے جوشوں کے پورا کرنے کے لئے بالکل آزاداور مختار تھی اور کوئی قانون نہ تھا جو ایسے سخت سے سخت اراروں کی روک تھام کر سکے اور نہ صرف کو ئی دنیاوی سلطنت یا قانون ہی اس کو اپنی حدود میں نہ رکھ سکتا تھا بلکہ کوئی شریعت بھی اس قوم کے پاس نہ تھی جو کہ اس کے دل پر حکومت کرتی ہو اور نہ ہی علوم سے ان کو کچھ بہرہ تھا کہ اخلاق کی رہنمائی سے ہی وہ اپنے جوشوں سے بازرہتی۔پس اگر مسیحؑ کی قوم قیدی تھی تو یہ اس کے بر خلاف آزاد تھی اور اگر وہ بند تھی تو یہ کھلی تھی۔اور اگر اس کے رستے میں رکاوٹیں تھیں تو یہ بے روک ٹوک تھی اور اگر وہ اپنے جوشوں کے پوراکرنے سے قاصر تھی تو یہ قادر تھی اور وہ کسی شہریت کے جوئے یا عذاب کے خوف کے پیچھے تھی تویہ ان دونوں باتوں سے بری۔پس جو اختیار کہ مسیحؑ پر اس کی قوم کو تھا۔اس سے کہیں زیادہ رسول الله ﷺپر آپﷺ کی قوم کو تھا اور جو نقصان کہ مسیح ؑکی قوم اس کو بسبب گوناگوں رکاوٹوں کے نہ پہنچاسکتی تھی وہ رسول اللہ ﷺکی قوم اپنی آزادی کی وجہ سے پہنچا سکتی تھی۔پھر مسیحؑ قانون کی پناہ میں ہونے کے علاوہ اپنے ماں باپ کی پناه او راپنے بھائیوں کی حمایت میں تھابر خلاف اس کے رسول اللهﷺ کے والدین اور دادا آپ ﷺکے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔اور صرف ایک چچاکی مدد آپﷺ کے ساتھ تھی۔پھر مسیحؑ کی تعلیم وہی تھی جو کہ توریت و زبور وغیرہ کی ہے لیکن رسول اللهﷺ کفار کے اپنے طرز عمل کو بھی برا نہ کہتے تھے بلکہ ان کے معبودوں کو بھی حصب جهنم قرار دیتے تھے۔جس