انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 280

سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مسیحؑ کی قوم کو ان سے کچھ زیادہ اختلاف نہ تھا مگر رسول اللہﷺ کی قوم میں اورآپ میں ایک اختلافات کا سمندر حائل تھا جو ان کو آپ کی مخالفت کے لئے ہردم ابھار تا تھا۔پھر جوشخص مسیحؑ کی پیروی کر تا تھا اسے سوائے گالیوں کے اور کچھ نقصان نہ پہنچتا تھا یا زیادہ ہؤا تو کہیں مارپیٹ پڑ جاتی تھی۔لیکن رسول اللہﷺ کے ساتھ تعلق پیدا کرنا نہ صرف عزیز و اقرباء سے قطع تعلق کر لینا تھا بلکہ اپنی جان سے بھی نا امید ہونا تھا۔چنانچہ حواریوں کا زیادہ سے زیادہ پٹنا ثابت ہےاور صحابہؓ کا نہ صرف مار کھانا بلکہ قتل ہو ناپایۂ ثبوت کو پہنچتا ہے اور پھر قتل بھی معمولی نہیں۔ایسےواقعات بھی ہیں کہ مرد کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے باندھ دی اور دوسری دو سرے سے اور پھردونوں کو مختلف سمتوں میں چلا دیا اور پھر مسیح ؑ کے ساتھ کی عورتوں کی نسبت تو گالی گلوچ بھی ثابت نہیں اور رسول اللہ ﷺکو ماننے والی عورتوں میں سے بعض کا قتل اور ایساقتل کہ ان کے فروج میں نیزہ مار کر مار دیا گیا ثابت ہے۔پھر مسیح ؑشہروں اور بستیوں میں کھلم کھلا و عظ دیتا پھرتا تھا اور رسول کریم ﷺ کے مخالفین آپ کو اس قدر آزادی نہیں دیتے تھے بلکہ آپ ﷺکا اکے دکے آدمیوں میں تبلیغ کرنابھی و ہ لوگ نا پسند کرتے تھے۔اور جہاں آپ کو دیکھتے زدوکوب کرنے سے نہ ٹلتے تھے پھر اگر مسیح ؑ کہیں بھاگ جاتا تو وہ لوگ ایسے ناراض نہ تھے کہ اس کا پیچھا کرتے۔لیکن رسول الله ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں تشریف لے گئے تو آپ کا پیچھا لوگوں نے وہاں تک کیا۔مسیح ؑکے پکڑنے کا خیال اس کے مخالفین کو ایسانہ تھا۔جتنا کہ آپ کے مخالفین کو آپ کے گرفتار اور قتل کرنے کا تھا۔کیونکہ مسیحؑ کے سر کا اس کے دشمنوں نے تیسں درہم انعام مقرر کیا لیکن رسول اللہ ﷺکے لئے ایک سو اونٹ کا انعام اعلان کیا گیا: پھر مسیحؑ کی جنگ یعنی زبانی بات چیت صرف یہودیوں سے تھی اور رسول اللہ ﷺنے اپنی سچائی سے سب دنیا کو اپنے مقابل پر لا کھڑاکیا تھا۔اور مسیح ؑ اپنی حکومت کی پناہ میں تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابل پر نہ صرف آپ کی اپنی قوم تھی بلکہ اس وقت کی دونوں زبردست یعنی قیصر روما اور کسریٰ کے ایران کی حکومتیں بھی آپ کے استیصال کا ارادہ رکھتی تھیں اور علاوہ ان کے عرب کے مسیحی اور یہودی بھی آپ کے ساتھ بیر رکھتے تھے۔مگر باوجود ان تمام مشکلات کے جو رسول الله ﷺ کے راستہ میں تھیں اور ان خطرات کے جو آپ کی ہلاکت کے لئے اگر آپ (نعوذ باللہ ) جھوٹے ہوتے کافی تھے۔آپ بڑھے اور پھولے اور پھلے اور دن رات آپ کا قدم آگے بڑھا اور جو کوئی آپ کے مقابلہ میں آیا ہلاک ہوا۔اور جو کوئی آپ پر گر ہلاک ہوا اور جس پر آپ گرے اسے ہلاک کردیا۔آپ