انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 262

ان کے پچھتانے پر ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش نہیں آتا۔بلکہ نرمی کرتا ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ کو نعوذ بالله رحیم نہ مانا جائے اور توبہ کو قبول کرنے والا نہ مانا جائے *تو ایک اور بھی عظیم الشان اعتراض پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا خالق نہیں ہے کیونکہ خالق اپنی مخلوق کےخواص سے خوب واقف ہو تا ہے۔اور فطرت انسانی میں ہم رحم کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواپاتےہیں پس اب دو صورتوں میں سے ایک سورت ہے یا تو آریوں ،مسیحیوں کا خدار(نعوذ بالله ) ہماراخالق نہیں کیونکہ اس کو معلوم نہیں کہ فطرت انسانی میں محبت اور رحم کا ما دہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے تب ہی تو وہ ہم کو وہ تعلیم دیتا ہے جو ہماری فطرت کے بر خلاف ہے اور جب وہ ہماری فطرت کےبر خلاف ہے تو اس پر عمل کرنا تکلیف مالا یطاق ہے۔اور اگر وہ ہمارا خالق ہے اور ضرور ہے تو مانناپڑے گا کہ وہ ضرور رحیم ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ وہ ہماری فطرت میں تو یہ بات رکھ دے کہ رحم کو ہم عدل سے زیادہ سمجھیں۔اور پسند کریں اور خود رحیم نہ ہو کیونکہ اس صورت میں ہم کو(نعوذ باللہ ) اس سے کبھی بھی محبت نہیں پیدا ہو سکتی۔اب میں خدا کے فضل و کرم سے قوانین فطرت اور نیچے سے ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور توبہ کو قبول کرتا ہے کیونکہ محبت حسین سے ہوتی ہے اور رحم ایک بڑا حسن ہے۔پس کسی صورت میں خدا تعالیٰ جو اصل معشوق ہے اس حسن سے خالی نہیں ہو سکتا اور یہ کسی صورت میں بھی ممکن نہیں کہ وہ مہربان خداجو والدین سے لاانتہا د ر جہ زیادہ محبت کرنے والا ہےجبکہ اس کے آگے ہم پشیمان ہو کر جائیں اور شرمندگی سے اس کی دہلیز پر اپنی گردن جھکا دیں تو وہ ہم کو کند چھری سے ذبح کردے اور اگر ایسا ہو تو خدا تعالیٰ اخلاق میں انسان سے بھی ادنیٰ متصور ہو گا جو ناممکن ہے۔اور یہ بھی میں نے ثابت کیا ہے کہ اس عقیدہ سے پھر خدا تعالیٰ کے خالق ہونے سے بھی جواب دینا پڑتا ہے پس وہی طریق راست اور درست ہے کہ جو قرآن شریف سے معلوم ہو تاہےاور جیسا کہ میں آیات کے حوالوں سے ثابت کر آیا ہوں کہ خدا تعالیٰ ضرور رحیم ہے اور گناہوں کووہ ضرور بخشا ہے اور اس جیسا تو بہ کو قبول کرنے والا اور کوئی ہے ہی نہیں کیونکہ وہ و حده لا شریک ہے چنانچہ مسیحیوں کے لئے تو یہ مثال کافی ہے کہ جب یونسؑ نبی کی قوم پر اس کے کفر کی وجہ سےعذاب آیا تو ان کے چیخنے اور چلانے پر وہ عذاب ہٹ گیا پھریوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کوبخشا اور خدا نے اسے ملامت نہ کی خود مسیحؑ کہتا ہے کہ : *خدا تعالیٰ کو رحیم تو کہتے ہیں اور آریا دیا کرپالو مانتے ہیں مگر چونکہ عملاً اس صفت کے منکر ہیں کیونکہ توبہ کے قبول کرنے اور گناہوں پر چشم پوشی کرنے میں اسے قاصر جانتے ہیں۔اس لئے میں نے اس مضمون میں اس جگہ لکھا ہے کہ وہ اس کے ختم ہونے کے منکر ہیں۔