انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 261

اور اس درجہ سے اور پھر ایک اور درجہ ہے جس کا نام ہے رحم جس کے معنی ہیں کہ ایک شخص کو جس قد راس کا تھا اس سے زیادہ دے دیا جائے مگر اس سے کسی اور کی حق تلفی نہ ہو۔مثلا ًایک شخص نے ایک مزدور لگایا اور اس نے دو روپیہ کا کام کیا تو دو روپیہ کی بجائے اسے اگر تین دے دیئے تو یہ اس کارحم ہے ہاں شرط یہ ہے کہ کسی اور کا حق مار کر ایسانہ کیا گیا ہو کیونکہ اس صورت میں یہ رحم رحم نہیں رہ سکتا۔چنانچہ خالق و مخلوق کے مدارج بھی ہم دیکھتے ہیں تو تین ہی ہیں ایک تو وہ لوگ جوشریر ہیں اور شیطان آدمی کہلاتے اور اسکے متبع سمجھے جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو کہ نیک ہوتے ہیں اور ایک خود اس کائنات کا وجود میں لانے والا پس ظلم تو اصل صفت شیطان کی ہے کہ اس کے متبع اس صفت سے متصف ہیں اور عدل اصل صفت نیک لوگوں کی ہے اور رحم اصل صفت خدا تعالیٰ کی ہے اور میں مناسب تقسیم ہے کیونکہ شیطانی کام تو شیطان سے ہی سرزد ہوں گے اور چونکہ مخلوق خالق کے برابر نہیں ہو سکتی اس لئے ضرور ہے کہ اس کی اصل صفت وہ ہو جو کہ وسط میں ہے یعنی عدل۔اور خالق کی صفت سب سے اعلیٰ ہو یعنی رحم چنانچہ قرآن شریف سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے اور کہیں خدا تعالیٰ نے ظلم کا لفظ اپنے لئے استعمال نہیں کیا بلکہ یہی فرمایا کہ لا يظلمون فتیلایعنی ہمار ی د ر گاہ میں فیصلہ کے وقت ایک ذرہ بھربھی ظلم نہیں ہوتا۔اور نیک لوگوں کو رحم کی ترغیب دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ان الله يامربالعدلیعنی اللہ تعالیٰ تم کو نیک صفات میں سب سے پہلے عدل کی تعلیم دیتا ہے ہاں جب تم کمال حاصل کر لو تو تخلقوا باخلاق اللہ کے ماتحت تم کو پھر تم کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے چنانچہ فرماتا ہے والإحسان وإيتاءذی القربی لیکن سارا کا سارا قرآن شریف دیکھ جاؤ ایک جگہ بھی تم عدل کا لفظ خدا تعالیٰ کے لئے نہ پاؤ گے بلکہ یہی پاؤ گے ان الله غفوررحيم جس سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے جس کے ماتحت آکر عدل بھی ہو جاتا ہے ورنہ زیادہ تر وہ رحم سے ہی کام لیتا ہے پس قرآن شریف میرےاس دعوے کی تائید کرتا ہے اور یہ کوئی ایسا دعویٰ نہیں جو میرا خود ساختہ ہو خور فطرت انسانی اس پرمہر کر تی ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو ماننا پڑے گا کہ نعوذ بالله مخلوق و خالق کی تقسیم اس طرح پر ہے کہ اول شیطان کہ جو ظلم کرتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے دوم خدا تعالیٰ کہ جو عدل کرتا ہے اور سب سے اعلی مرتبہ پر انسان ہے کہ جو رحم کی صفت سے متصف ہے اور یہ ایک ایسا خیال ہے کہ جس کے ماننے کے لئے کوئی ذی عقل تیار نہیں جس سے لازمی طور سے معلوم ہو تا ہے کہ جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے خدا تعالیٰ ضرور رحیم کریم ہے اور اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور :۔