انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 236

عالمین کی صفت کے ماتحت اب سب دنیا کی ربوبیت کرے گی۔اور خواہ کسی مقام کا رہنے والا آدمی ہو سب کے لئے اس نے اپنے دروازوں کو کھول دیا ہے۔اور کسی دکھیارے کو رد نہیں کرتی اور کسی سائل کو دھتکارتی نہیں۔نہ کسی ملک کے ساتھ اپنے آپ کو مخصوص کرتی ہے۔چنانچہ یہ وہ آیت ہے کہ مسلمان اس کو دن میں کم سے کم چالیس دفعہ تو پڑھ ہی چھوڑتے ہیں۔علاوہ اس کے سورة انعام کے رکوع ۲ میں خدا تعالیٰ رسول اللہ اﷺکو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَؕ (الانعام :۲۰) یعنی وحی کیا گیاہے میری طرف یہ قرآن تا کہ میں تم کو اس سے ڈراؤں اور اس کو ڈراؤں جس کو یہ پہنچے جس کامطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہر ایک شخص کے لئے ہے۔اور کسی قوم یا ملک کی خصوصیت نہیں جس کے کان میں ہی پڑے وہی مخاطب ہے اور کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ میں تو اس کے مخاطبین میں سےنہیں ہوں۔بلکہ جس کو یہ پہنچ جائے اسی کو آنخضرتﷺ کے دعوی ٰکی طرف جھکنا پڑے گا۔اورسستی یا شرارت پر کوئی عذر نہ سناجائے گا۔چنانچہ اس آیت میں ایک پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آنحضرتﷺ کو فرماتا ہے کہ قرآن شریف کے منکرین کے لئے جو سزا ئیں بتائی گئی ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جو شرارت کرے گا اور اس کتاب سے ٹھٹھا کرے گا وہ ہلاک ہو گیا اور دنیامیں ذلیل ہو گا۔وہ صرف اہل عرب کے لئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں نہ جائے گا وہیں اس کے مقابلہ کرنے والے ذلیل و خوار ہوں گے۔اور ان کے لئے بھی نذیر ہو گا۔چنانچہ اس لئے فرمایا کہ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَیعنی تا کہ انذاری پیشگوئی تم کو بھی اور جن کو یہ پہنچے ان کو بھی سنادی جائے۔اور یہ قرآن شریف کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور آیت ہے کہ جس کے مقابلہ میں اورکوئی کتاب نہیں ٹھہر سکتی چنانچہ آتھم اور لیکھرام نے اس پیشگوئی کے مطابق اپنا انجام دیکھ لیا اوراس پیشگوئی کے شاہد بنے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا۔پس علاوہ اس کے کہ ااس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ قرآن شریف سب دنیا کے لئے ہے۔یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جس کو یہ پہنچے اس کے لئے یہ انذار ساتھ موجود ہے۔کہ اس شہنشاہی پروانہ سے اگر ٹھٹھا کرو گے۔تا آنخضرتﷺ اسی لئے آئے تھے کہ سب دنیا کو کہہ دیں کہ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ علاوہ ازیں سورۃ اعراف رکوع ۲۰ میں ہے کہ قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ (الاعراف: ۱۵۹» یعنی ان کو کہہ دے کہ ایک دوکےلئے نہ کسی خاص قوم کے لئے اور نہ ہی کسی خاص ملک کے لئے بلکہ میں دنیا کے ہر گوشہ کے۔۔(۱۵۹ :