انوارالعلوم (جلد 1) — Page 223
علاوہ اس کے قرآن شریف ایک اور جگہ فرماتا ہے کہ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ -وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (ق ۱۷) اس آیت میں خدا تعالیٰ نےقرآن شریف کی سچائی کا ثبوت دیا ہے اور فرمایا ہے کہ قرآن شریف کی سچائی کا یہ ثبوت ہے اوراس کے خدا کی طرف سے ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وساوس نفسانی کو کوئی انسان تو سمجھ ہی نہیں سکتا۔کیونکہ کسی کو کیا معلوم ہے کہ دوسرے کے دل میں کیا کیا خیالات گزرتے ہیں اور کون کون سی بات اس کے دل میں کھٹکتی ہے۔اگر کوئی سمجھ سکتا ہے تو وہ خالق ہی ہے۔پس جبکہ خالق ہی سمجھ سکتاہے تو قرآن شریف کے ہماری طرف سے ہونے کی یہ دلیل ہے کہ ہم نے کل و سادس انسان کا اس میں بادلا ئل ردّکیا ہے۔اور یہ کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔اس لئے ثابت ہوا کہ کلام جو ہے تواسی ہستی کی طرف سے ہے کہ جو خالق ہے کل انسانوں کی تبھی تو اس نے ہر ایک کے خیال کا اس میں ردکر دیا۔ورنہ غیر تو غیر انسان تو اپنے بیوی بچے کے خیالات پر بھی آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔پھر کس طرح ممکن تھا کہ کوئی انسان ایسی کامل کتاب اپنی طرف سے بنائے کہ جس میں کل وساوس انسان کاردّموجود ہو۔اور باہر سے دعویٰ یا دلائل مانگنے کی کچھ ضرورت نہ پڑے۔پس اس آیت میں قرآن شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ کل و عوے او ر دلائل میرے اندر موجو و ہیں۔اور میں ایک کامل کتاب ہوں اور کیا تم کا بھی وسوسہ اور شیطانی خیال ہو اس کا جواب تدبیر کرنے والے انسان کےلئے مجھ میں موجود ہو گا۔اور کوئی اعتراض بھی ذات و صفات الہٰیہ پر نہ پڑے گا کہ جس کا جواب نہ دیاگیا ہو اور کوئی حرف گیری اسلامی عقائد پر نہ کی جائے گی کہ جس کاردّ نہ کیاگیا ہو۔پس یہ کام خداکے سوا اور کسی کا ہو نہیں سکتا اس لئے یہ کتاب ضرور الہامی ہے۔اب میں کافی طور سے بتا چکا ہوں کہ قرآن شریف نے بھی یہ دعوی ٰکیا ہے کہ ہر ایک الہامی کتاب کا فرض ہونا چاہئے کہ کل ضروری باتوں کا اس میں بیان ہو۔اور وہ بغیر دلائل کے بیان نہ کی گئی ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے دلائل بھی آنے چاہئیں۔اگر قرآن شریف کےبتائے ہوئے اس پاک اصول پر دنیا کار بند ہوتی تو میں خیال کرتا ہوں کہ بہت سے جھگڑے خود بخودہی طے ہو جاتے اور کچھ لمبے چوڑے مباحثات نہ کرنے پڑتے۔مگر افسوس کہ چونکہ غیر مذاہب اس نعمت سے خالی ہیں۔اس لئے حتی المقدور وہ اس کے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔مگرمیں نے اس پر اس لئے زور دیا ہے کہ شاید کسی سعید روح کو کچھ فائدہ پہنچے اور وہ سوچے اور غورکرے کہ کیا وجہ کہ ہم خدا کی مد د کو آ ئیں۔اور وہ خود اپنی الہام کردہ کتاب کو ایساناقص ر کھے کہ