انوارالعلوم (جلد 1) — Page 208
بتائے کہ جن سے مخلوق کو خود بخود خدائے تعالیٰ سے محبت پیدا ہو اور علاوہ اس کے باقی مخلوقات پررحم کرنے کا مادہ پیدا ہو۔اور ایسا مذہب اپنے اندر کچھ نشانی بھی رکھتا ہو - اسلام نے ہر ایک پہلو کوخوب واضح کیا ہے۔چنانچہ اول ہی بات جو اس سورۃمیں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کو سکھایاگیا ہے کہ وہ خدا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ رب العالمین ہے اور اس قابل او رلائق ہے کہ اس کی حمد کی جائے۔چنانچہ یہ بات ہر ایک عقل مند پر ثابت ہے کہ محبت کے دو ہی طریقےہیں ایک حسن دوسرا احسان سواس آیت میں خدائے تعالیٰٰ نے دونوں پہلووں کو لیا ہے اور بتایا ہےکہ اسلام کا خدا وہ ہے کہ جو ہر ایک چیز کا ربوبیت کرنے والا ہے اور اسے اپنے حدود کے اندربتدریج ترقی دیتا اور بدرجہ کمال تک پہنچاتا ہے چنانچہ ہم جب دنیا پر نظر کرتے ہیں تو ہر ایک چیز میں اس صفت کا جلوہ دیکھتے ہیں اور ایک رائی کے دانہ سے لے کر بڑی سے بڑی چیز تک یہی صفت اپناکام کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے مثلا انسان کو ہی دیکھو ایک وقت ایسا ہو تا ہے کہ یہ ایک نطفہ کی طرح ہوتا ہے اور اس کو کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے بلکہ بغیرمائکروسکوپ کی مدد کے اس کا دیکھا جانابالكل ناممکن ہو تا ہے پھر اس حالت سے نکل کر جب یہ رحم مادر میں داخل ہو تا ہے تو ایک عرصہ گزرنےکے بعد اس نطفہ کی شکل ایک منجمد خون کی سی ہو جاتی ہے اور جب ایک مدت اور اس پر گزر جاتی ہے تو وہ ایک بوٹی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اس کے بعد اس میں ہڈی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے اوراس پر گوشت چڑھ جاتا ہے اور اس کے بعد اذن الٰہی کی ایسی ہو ا اس پر چلتی ہے کہ وہی بے جان چیززندہ ہو جاتی ہے اور خدائے تعالیٰٰ کے عظیم اور بے پایاں فیوض کو حاصل کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے اور اس وقت اس کی حالت میں پہلی حالت سے زمین و آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے چنانچہ اسی ربوبیت کی طرف اشارہ ہے حضرت احدیت کا کہ وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـانَ مِن سُلَـٰلَةٍۢ مِّن طِينٍۢ ثُمَّ جَعَلْنَـٰهُ نُطْفَةًۭ فِى قَرَارٍۢ مَّكِينٍۢ ثُمَّ خَلَقْنَا ٱلنُّطْفَةَ عَلَقَةًۭ فَخَلَقْنَا ٱلْعَلَقَةَ مُضْغَةًۭ فَخَلَقْنَا ٱلْمُضْغَةَ عِظَـٰمًۭا فَكَسَوْنَا ٱلْعِظَـٰمَ لَحْمًۭا ثُمَّ أَنشَأْنَـٰهُ خَلْقًا ءَاخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ ٱللَّهُ أَحْسَنُ ٱلْخَـٰلِقِينَ(المؤمنون : ۱۳-۱۵) چنانچہ یہ آیت اس صفت ربوبیت کی تشریح میں خدائے تعالیٰ ٰنےبیان فرمائی ہے کہ ہم اس قسم کی ربوبیت کرنے والے ہیں کہ ایک ذرا سی ناچیز چیز کو چھو لیتے ہیں تو اپنی صفت ربو بہت کام میں لا کر کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتےہیں چنانچہ وہ اجزاء جو مٹی میں تھے ہم نےان کو نطفہ اور علقہ اور مضغہ اور پھر ہڈی اور گوشت کی شکلوں میں تبدیل کرتے ہوئے آخر اپنی صفت ربوبیت کو یہاں تک وسیع کر دیا کہ وہ بے جان چیز جاندار ہو گئی اور ایک ہی مخلوق بن (۱۵ - ۱۳: