انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 181

کچھ پرواہ نہیں کرتے۔پھر بعض دفعہ پہرہ داروں اور اردلیوں کی جھڑکیاں کھاتے ہیں مگر انفتک نہیں کرتے۔تو جب کسی شخص کو خدائے عزوجل سے جو احکم الحاکمین ہے ملنے کا موقعہ ملے تو وہ کیساخوش نصیب ہے اور اگر وہ سستی کرے تو اس سے بد تر اور کون ہے۔دیکھو خدا کسی کو جھڑکیاں نہیں دیتا بلکہ اگر کوئی ایک قدم اس کی طرف جاتا ہے تو وہ اس کی طرف دو قدم چل کر آتا ہے اور اگر کوئی آہستہ چل کر آتا ہے تو وہ تیز آتا ہے اور اگر کوئی تیز چل کر آتا ہے تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔اور یہ بات بھی نہیں کہ اس کے دیدار اور ملاقات کے لئے مہینوں یا پرسوں انتظار کرنا پڑے بلکہ ایک دن میں کم سے کم پانچ دفعہ اس نے ہمیں ملاقات کا موقعہ دیا ہے پھر اگر ہم سستی کریں تو یہ ہماری بد بختی ہے (نعوذ باللہ ) نہ کہ کچھ اس پر الزام ہے۔پھر عبادت کے بعد خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حمد اور شکربھی کرنا چاہئے اور اس کے احسانوں کو ہمیشہ یاد کرتے رہنا چاہئے۔دیکھو ایک فقیر کو ایک آدمی پیسہ دیتا ہے تو وہ اس قدر ممنون ہوتا ہے کہ اس کو سچے دل سے ہزاروں دعائیں دیتا ہے اور نہایت شکرگزار ہو تا ہے۔تو پھر خدا تعالیٰ کہ جس نے ہم پر بے پایاں احسان کئے ہماری شکر گذاری کا کس قدرمستحق ہے اور اگر ہم شکر کریں تو اس سے اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ خود ہم کو ہی نفع ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ لئن شكرتم لأزيدنكم ابراہیم: ۸ یعنی اگر تم لوگ میرا شکر کرو گے تو میں تم کو اور بھی دوں گا اور زیادہ سے زیادہ انعام کروں گا پس اس کے شکریہ ادا کرنے میں ہم اس پر کچھ احسان نہیں کرتے بلکہ الٹا اور فائدہ اٹھاتے ہیں اگر ہم ناشکری کریں تو اس کا نقصان بھی خود ہم کواٹھانا پڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰٰ کو اس سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔بنگال گورنمنٹ کے بے شماراحسانات کا کفران کر کے اگر بنگالی بر سر فساد ہوئے تو انہوں نے بعض انسانی جانیں لے لیں اور ملک کے ایک حصہ میں بے امنی پھیلا دی لیکن خدائی گورنمنٹ سے کوئی شخص مقابلہ نہیں کر سکتا۔اگر کوئی شخص ناشکری کرتا ہے تو وہ خود سزا پائے گا اور وہ غم و غصہ سے کسی قدر جوش بھی دکھائے توبھی لاحاصل ہو گا کیونکہ کسی دنیاوی گورنمنٹ کے عہدہ داروں کو تو بم کے گولے کارگر ہو سکتے ہیں مگر الہٰی گورنمنٹ ایسی طاقتور ہے کہ اس کے افسروں پر کوئی ہتھیا ر اثر نہیں کر سکتا کیونکہ ان کےلئے الله یعصمك من الناس (المائدہ:۶۸) کا حکم جاری ہو چکا ہوتا ہے پھر اگر ہم میں سے کوئی گورنمنٹ کی ناشکری کرے تو بوجہ انسان ہونے کے ممکن ہے کہ اس کے عہده دار اس واقعہ سےبے خبر ہیں لیکن آسمانی بادشاہت کے بر خلاف کہنے والا تو کبھی بچ نہیں سکتا کیونکہ وہ کسی طرح بھی اپنے خیالات کو چھپا نہیں سکتا اور چونکہ خدا تعالیٰ مخفی سے مخفی رازوں کو جانتا ہے اس لئے