انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 182

ایسا شخص ضرور مستوجب سزا ہو گا۔میں نے شرک کے معاملہ میں بارہا سوچا ہے کہ خدا تعالیٰ بھی بڑارحیم ہے کہ اول تو خودی ہماری آسائش کے سامان بہم پہنچاتا ہے اور ہرقسم کی نعمتیں ہمیں عنایت کرتا ہے پھر ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس نے ہمیں اعضاء اور حواس بھی پہلے سے ہی دے رکھے ہیں لیکن اگر کبھی ہمارے منہ سے یہ نکل جائے کہ خدا کا ہم پر بڑافضل ہے اور ہم شکر کریں تو وہ اور بھی خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے بندے نے بڑا کام کیا تو میں اس پر اور بھی احسان کروں مگر غور کر کے دیکھو تو ہم نے کچھ بھی نہیں کیا سب کچھ اسی کا دیا ہوا تھا دل جس نے شکرکرنے کا خیال کیا اور زبان جس نے شکر کیا یہ بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے پھر ہم نے کیا کیا جس کا بدلہ وہ ہمیں دیتا ہے۔غرضیکہ اس بات کو سوچ کر مجھے بڑی حیرت آتی ہے کہ خدا کتنار حیم کریم ہے۔پھر آگے چل کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ علاوہ شکر کے تم لوگ میری خاطر اپنی جانوں سے کچھ چھڑؤا بھی یعنی بعض ایسی چیزیں جو تمہارے لئے جائز بھی ہوں وہ چھوڑ دوتامجھ سے تعلق اور بھی بڑھے مثلاً اعتکاف کرو کہ اپنی آزادی کو میرے لئے چھوڑ دیا۔اسی طرح اور بعض بدیوں سے رکواور پرہیز کرو اس کے بعد فرماتا ہے کہ تم لوگ میرے لئے رکوع و سجود بھی کرو یعنی ہر وقت فرمانبرداری کی طرف توجہ لگائے رکھو۔اس رکوع و سجود پر مجھے خیال آتا ہے کہ انسان کو بھی خدا نے کیاضدّین کا تابع پیدا کیا ہےیہی انسان ہے کہ ایک وقت اگر برائی کی طرف جھکتا ہے تو حد درجہ کی شرارتیں کرنے لگتا ہے اور نیکی کی طرف توجہ کرتا ہے تو تب بھی کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔میں نے کتے کو رکھ کر خیال کیا کہ اس میں دو صفتیں ہیں ایک تو بری اور ایک نیک۔بری صفت تو حرص ہے۔نیک صفت وفاداری۔مگر جب انسان شرارت پر آتا ہے تو کتے کی فرمانبرداری کرتا ہے اور حریص ہو جا تا ہے۔مگر افسوس ہے اس پر کہ وہ ان کی نیک صفت اختیار نہیں کر تا یعنی اپنے مالک اور آقا کی ذرابھی وفاداری نہیں کرتا اس صورت میں وہ کتے سے بھی بد رجہا بد تر ہے۔مگر ساتھ ہی ایسے لوگ بھی ہیں جو کتے سے سبق نہیں لیتے اور فرشتوں سے نصیحت حاصل کرتے ہیں یعنی وہ خدا کے ہرحکم کے آگے فرشتوں کی طرح سجدہ کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں بلکہ فرشتہ سے بھی بڑھ جاتے ہیں اور نہ صرف جدہ کرتے ہیں بلکہ رکوع بھی کرتے ہیں۔پس انسان اگر برائی کی طرف آتا ہے تو کتےّ سے بھی بد تر ہو جاتا ہے اور اگر نیکی اختیار کرتا ہے تو فرشتوں سے بھی بڑھ جاتا ہے غرضیکہ خدا تعالیٰ نےاس جگہ پر اپنے بندوں کو راستہ بتایا ہے کہ تم لوگ فرشتوں کی پیروی کرو اور پھر ان سے بھی بڑھ جاؤ۔