انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 120

باب دوم مولوی ثناء اللہ امرتسری اب میں عبد الحکیم کی نسبت کانی لکھ چکا ہوں۔اور اگر خداوند تعالٰی کی مرضی ہو گی اور اس کا فضل شامل حال ہوا تو جن لوگوں کے دلوں میں کوئی شکوک ہوں گے وہ اس کو پڑھ کر رفع ہو جائیں گے۔کیونکہ سوائے فضل خداکے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا اور اس بارے میں تو خود اس کا اپناکلام ہے کہیضل من یشاءو یھدی من یشاءکون ہے جو دعویٰ سے کہہ سکے کہ میری تحریر سے ہر ایک شک و شبہ دور ہو جائےگا۔انسان کا کام کوشش کرتا ہے، اور ہدایت حق خداوند تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چنانچہ میں عبدا لحکیم خاں کے باطل دعولی کا جواب دے کر مولوی ثناء اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں جو کہ امرت سر کے رہنے والے ہیں۔اور بوجہ حضرت اقدس سے خاص بغض رکھنے کے احمدی جماعت کے اکثر لوگ ان کو جانتے ہیں۔جیسے مسیح ناصریؑ کے وقت بعض فقیہہ اور فریسی اسی کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح آپ کو دکھ پہنچے ویسے ہی مولوی ثناء اللہ صاحب نے قادیانی کے پیچھےلگے رہے ہیں۔مگر اس قدر فرق ہے کہ وہ لوگ کسی قدر شرافت سے کام لیتے تھے۔اور مولوی ثناءاللہ صاحب تمسخر کا ایک زندہ پتلا ہے۔اور اس کے علاوہ گالیاں دینے میں بھی آپ نے ایک خاص مہارت پیدا کی ہوئی ہے۔غرض خداکے فرستادہ کی مخالفت ہی ان کا کام ہے ، اور اسی پر ان کی زندگی کا دارو مدار ہے۔کوئی موقعہ ایسا نہیں گذرا کہ یہ کچھ طعن و تشنیع نہ کریں۔ہمارے سلسلہ کے لئے کوئی خوشی کا دن ہو یا غم کا ان کی ظریف طبیعت کے لئے ایک مشغلہ ہاتھ آجا تاہے۔ظرافت کے فن کے مشتّاق سے مشتّاق آدمی کسی بات کو معمولی تصور کریں مگر یہ اس پر قہقہہ اڑائے بغیر نہیں رہ سکتے۔زبان اردو کے گندے سے گندے شعر جو کسی دیوان سے مل سکیں وہ دینی معاملات میں آپ (فاطر:۹)