انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 121 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 121

استعمال کرتے ہیں اور کثرت سے یاد کئے ہوئے ہیں۔غرض تمسخر اور بد زبانی یہ دو گر ہیں جن میں آپ کو خاص ملکہ ہے۔اور جو آپ کی ہر ایک تحریر میں پائے جاتے ہیں۔خشیت تو خیر خاص خاص لوگوں میں ہوتی ہے۔یہ شرافت کا بھی بعض موقعوں پر خیال نہیں رکھتے۔احمد ی جماعت کی جو خوبی ہے وہ ان کی نظر میں عیب دکھائی دیتی ہے۔اور جو نیکی ہے یہ اس کو برائی تصور کرتے ہیں۔اور دین کی خدمت کے لئے وہ خواہ کیسی ہی کوشش کرے یہ پھر بھی اس کو شرارت پر محمول کرتے ہیں۔غرض کہ آپ کے خیال میں یا کم سے کم آپ کی زبان پر یہ بات ضرور ہے کہ احمدیوں کی نمازیں ریاء ہیں۔روزے فریب ہیں۔زکوٰۃ و خیرات سب دکھلا وے کے لئے ہیں۔مخلوق خدا سے بھلائی ہے تو وہ صرف اپنے فائدہ کے لئے۔غیر قوموں سے اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لئے مباحثے ہیں تو وہ صرف ذاتی نفعوں کے لئے ہیں۔اور یورپ و امریکہ میں اسلام کی تبلیغ ہے تو نفسانی خواہش سے ہے۔مگر اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ برتن میں ہوتا ہے وہی نکلتا ہے۔اور گندے دلوں کی زبان سے بھی نجاست ہی ٹپکتی ہے۔اپنے خیالات چو نکہ دنیاوی لالچ اور مالی ترقی سے پر ہیں اس لئے اس خدا کے مصلح اور اس کی جماعت پر بھی وہی شک ہے۔انبیاء اور ان کی جماعت ایک صاف و شفاف آئینہ کی طرح ہوتے ہیں۔بد بخت لوگ اس میں اپنا چہرہ دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کی ایسی جماعت ہے حالانکہ وہ نہیں سمجھتے کہ خود ان کے دلوں میں ہی گندگی ہے اور وہ نجاست سے پر ہیں۔اور ایک پھوڑے کی طرح ان کے جسم میں سوائے پیپ اور خون کے اور کچھ نہیں ، اور نہیں جانے کہ بغض اور حسد نے ان کی آنکھیں بے نور کر دی ہیں۔اور باوجود آنکھوں کے نہیں دیکھتے اور ان پر خدا کا غضب ایسا بھڑکا ہے کہ کان تو رکھتے ہیں مگر سن نہیں سکتے اور دل ہیں مگر پاکیزگی سے دور ہیں اور ان کی زبانیں ہیں جو برے کلمات کے بولنے میں قینچی سے زیادہ تیز چلتی ہیں مگر پھر بھی حق کے کہنے کے لئے وہ گونگے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک بڑا کام کر رہے ہیں اور رسولوں کی مخالفت ہماری دنیا سنوار دے گی۔مگر نہیں جانتے کہ یہی کام ان کو ہ ان سے کوسوں دور لے جارہا ہے اور دوزخ کے دروازہ کی طرف ہدایت کر رہا ہے۔کاش کہ وہ عقل سے کام لیتے اور فکر اور تدبیر کرتے تو شاید ہلاکت سے بچ جاتے۔غرض جب اس بد گمانی نے بہت ترقی کی اور ملک میں بھی اس کا اثر ہونے لگا تو حضرت اقدس کو اس کے روکنے کا خیال پیدا ہوا۔چنانچہ \" قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘کتاب کے شائع ہونے پر مولوی ثناء اللہ نے لکھا کہ میں قسم کھا سکتا ہوں کہ مرزا صاحب جھوٹے ہیں۔اور ان کے الہام سراسر