انوارالعلوم (جلد 1) — Page 93
سکتا ہے۔اور دیکھ سکتا ہے کہ خداوند تعالیٰ کا کلام اس کے مسیح موعودؑ پر نازل ہو کر کس شان و شوکت سے پورا ہؤا۔)کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ یہ خواب آج بنائی گئی ہے بلکہ آج سے اڑھائی سال پہلے بدر ،الحکم، اور ریویو آف ریلیجیز مؤرخہ ۲۰-دسمبر۱۹۰۵ء میں شائع ہو چکی ہے۔اور پھر اسی کے ساتھ کی ایک خواب انہیں دنوں کی ہے۔جس سے اس خواب کے معنی اور بھی کھل جاتے ہیں۔اور وہ اسی نمبر ریویو آف ریلیجنز میں اور دیگراخباروں میں شائع ہو چکی ہے۔کہ’’ ایک کوری ٹنڈمیں کچھ پانی مجھے دیا گیا ہے۔پانی صرف دو تین گھونٹ پانی اس میں رہ گیا ہے٭ لیکن بہت مصفیّٰ اور مقطرپانی ہے۔اس کے ساتھ الہام تھا۔آب زندگی۔(تذکرہ صفحہ ۵۷۳)اب دیکھنا چاہئے کہ ۱۹۰۵ء کے آخر میں یہ الہام اور رویا ہوئے ہیں۔اوراس وقت بتایا گیا ہے کہ تیری زندگی کے صرف دو تین سال رہ گئے ہیں۔چنانچہ پورے اڑھائی سال کے بعد حضرت اقدس ؑنے وفات پائی۔اور یہ اس لئے ہوا کہ خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔اور وہ جو اس کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں۔وہ خودذلیل و خوار ہوتے ہیں۔اور دین و دنیا میں ان کی رسوائی ہوتی ہے۔اور وہ اس وقت تک نہیں مرتے جب تک کہ خدا ان پر اپنی حجت قائم نہ کر دے اور دنیا ان کی کذب بیانی پر آگاہ نہ ہو جائے۔جس طرح نبی اپنی نیکی اور تقویٰ اورخدا کی راہ میں قربان ہونے سے اس کی عزت کو دنیا میں دوبارہ قائم کرتے ہیں یہ لوگ بھی اپنی حدسے بڑھی ہوئی شرارت اور بد زبانی اور حق کی مخالفت کی وجہ سے مورد ِعتاب الہٰی بن کر اس کےجلال کے دنیا میں پھیلانے والے ہوتے ہیں۔یہی لوگ سب سے زیادہ نبیوں کے نام کو مٹانا چاہتےہیں۔مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان سے زیادہ ان کے نام کا روشن کرنے والا کوئی اور بھی ہے۔یہی لوگ ہیں جو ہمیشہ خدا کے قائم کئے ہوئے سلسلوں کی تباہی کے لئے دن رات لگے رہتے ہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان سلسلوں کی ترقی کے لئے ان سے زیادہ کوئی اور بھی کوشاں ہے۔یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں گمراہی اور ضلالت پھیلائیں۔مگر خداانہی کے منہ سے نکلی ہوئی باتوں سے ان سعید روحوں کو جومحبت الٰہی کے لئے دیوانوں کی طرح ہوتی ہیں ہدایت دیتا ہے۔اور ان کے دلوں میں ایک ایسی تڑپ پیدا کر دیتا ہے کہ خدا کے رسولوں کے دیکھنے کے بغیر ان کو چین نہیں آتا۔اور جب وہ ان ہدایت کے سرچشموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں تو پھر کوئی دنیوی طاقت ان کو ان کی اطاعت سےنہیں روک سکتی۔الغرض خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں پر اس لئے نشانات کی بارش برساتا ہے کہ تا ٭’’باقی رہ گیا ہے‘‘ ثابت کرتا ہے کہ پہلے زیادہ تھا۔مگراب خرچ ہو کر دو تین گھونٹ رہ گیا ہے۔یعنی دو تین سال آپ کی زندگی ہے۔اور پھروفات ہوگی"