انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 69

مٹے گاگو پنڈت لیکھرام کا خون آریوں میں ایک جوش پیدا کر گیا لیکن ساتھ ہی ثابت کر گیا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اور آریہ سماج اور دوسرے ویدک مذاہب محض باطل فروشی کر رہے ہیں اور یہ بھی ثابت کر گیا کہ خدا کا کلام اب بھی اپنے نیک بندوں پر نازل ہو تا ہے اور اس کی ربوبیت اب بھی اسلام میں عام ہے۔اب میں ثابت کر چکا ہوں کہ یہ عقیدہ جو اور مذاہب کا ہے کہ سوائے ہماری قوم کے چند افرادکے اور کسی کو الہام نہیں ہوا اور وہ بھی اب آئندہ کے لئے بند ہے بالکل غلط ہے اور اسلام میں اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کا ثبوت آج کل کے زمانہ میں بھی موجود ہے جیسا کہ لیکھرام کی اورآتھم کی موت اوریہی ایک خوبی اسلام کی سچائی کی کافی دلیل ہے اور آئند ہ اور بحث کی ضرورت نہیں مگر میں چاہتا ہوں کہ حتی الوسع وہ اعتراضات جو غیر قوموں پر پڑتے ہیں (وہ جو کہ میں پچھے ذکرکر آیا ہوں )ان سے اسلام کو پاک ثابت کر کے دکھاوں اور یہ بتلاؤں کہ اسلام تمام خوبیوں کامجموعہ ہے۔اب میں اس کے مسئلہ کو لیتا ہوں جس کو میں ثابت کر آیا ہوں کہ ایک لغو مسئلہ ہے اورانصاف کے بر خلاف ہے اس مسئلہ کی اسلام نے سخت تردید کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ یہ تعلیم خدا کی طرف سے نہیں مگر اس کے ساتھ ہی اسلام تم کو ایک اور تناسخ بتاتا ہے جو کہ ایسا خوبصورت ہےکہ نہ تو انسانی فطرت کے بر خلاف ہے اور نہ ظلم کے لفظ کا اس پر اطلاق ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے انسان کے لئے تین جو نیں بھگتنی مقرر کی ہیں یعنی انسانی حالت کے تین درجہ مقرر کئےہیں ایک تو نفس امارہ پھر نفس لوامہ اور تیسرے نفس مطمئنہ یہ تین حالتیں ہیں جن میں سے کہ انسان کو گزرنا پڑتا ہے نفس امارہ تو وہ انسانی حالت ہے جبکہ انسان گناہ کرتا ہے اور برائیوں میں گھرا ہواہوتاہے اور نفس لوامہ وہ حالت ہے جبکہ انسان اس درجہ تک ترقی کر جاتا ہے کہ جب ایک گناہ کرتاہے تو ساتھ ہی اس کے پھر اس گناہ سے پچھتاتا بھی ہے اور نفس مطمئنہ وہ انسانی حالت ہے جبکہ ایک انسان گناہوں کے دائرہ سے نکل کر حالت اطمینان میں ہو جا تا ہے اور اس کو شیطانی حملوں اوربرے خیالات سے نجات مل جاتی ہے یہ تین حالتیں ہیں جو کہ انسان پر وارد ہوتی ہیں میرا خیال ہےکہ شاید اس مسئلہ سے ملتاجلتا کوئی مسئلہ ہو گا جس سے بگڑ کر یہ تناسخ کا مسئلہ نکل آیا اگر چہ ایسالطیف اور پر معنی ارشاد سوائے اسلام کے اور کسی مذہب میں نہیں پایا جاتامگر شاید کوئی اس عقیدہ سے ملتاجلتا عقیدہ ان مذہبوں میں بھی ہو۔میں یہ نہیں مان سکتا کہ بالکل یہ عقیدہ ان لوگوں میں ہو گا کیونکہ