انوارالعلوم (جلد 1) — Page 57
انوار العلوم جلد 1 ۵۷ محبت الهی ہو کر فاقوں سے عمر گزارتے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے تھے کہ ان کو یہ سزادی جاتی ہے اب جو وہ امیر کے گھر پیدا ہو گئے تو کس کام کے بدلہ میں ہوئے جبکہ مسئلہ تناسخ مجبور کر رہا ہے کہ وہ ایک غریب کے ہاں پیدا ہوں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عقیدہ سے جو کہ خود آریون کا عقیدہ ہے ناسخ کی جڑ کٹ جاتی ہے یا تو یہ ماننا پڑے گا کہ لڑکے لڑکیاں اعمال کے مطابق ہیں اپنے اختیار میں نہیں یا تناسخ کے عقیدہ کو باطل قرار دیا جائے گا اور ان دونوں صورتوں میں آریہ مت کا ابطال ہوتا ہے یہ دلیل ایسی قاطع ہے کہ ضد اور ہٹ سے اگر کام نہ لیا جائے تو آریوں پر ایک بڑا سخت حربہ ہے ہاں اگر آریہ صاحبان اپنی جبلی عادت کو کام میں لا کر پھر بھی گالیوں پر اتر آئیں اور ہماری اس دلیل کو غور سے نہ دیکھیں نہ سمجھیں تو اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہم مسلمانوں کی طرف سے کافی دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے دیئے گئے ہیں کہ آریہ مت کو قبول کر کے ایسے پر میشور سے معاملہ نہیں پڑتا جس سے کہ محبت کی جا سکے بلکہ سراسر اس کے برخلاف ہے میں انتظار کرتا ہوں کہ اس اعتراض کے ہوتے ہوئے آریہ صاحبان تناسخ کی سچائی کی کیا دلیل دیتے ہیں اگر چہ یہ لازمی امر ہے کہ وہ کوئی جواب گھر تو ضرور لیں گے اور اس شد ومد سے اس کو بیان کریں گے گویا سچائی اور حق ان کے دلوں میں بھرا ہوا ہے۔ اب میں اصل مطلب کی طرف لوٹتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تناسخ خودان کے عقیدہ کے مطابق غلط ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا عقیدہ تناسخ کی نسبت زبانی ہی ہے ورنہ یہ اصل میں موت کے بعد کوئی اور عالم مانتے ہی نہیں اور دہریت کی طرف بڑی تیزی سے قدم مار رہے ہیں یا بالفاظ دیگر دہر یہ ہی ہیں۔ اور ان کے اس عقیدہ سے مادہ اور روح ازلی ہیں خدا کے علم میں بھی فرق آتا ہے کیونکہ جس چیز کو اس نے پیدا ہی نہیں کیا ان کی خاصیتوں اور ماہیتوں کا اس کو علم کیونکر ہوا وہ تو ازلی ابدی ہیں جیسا کہ پر میشور ہے اور پر میشور نے اس کو پیدا ہی نہیں کیا تو کیونکر ان کے مخفی در مخفی رازوں سے واقف ہو گو یا کم سے کم اس کو ایک مدت تجربات کرنے میں لگی ہو گی کہ وہ مادہ اور روح کی اصل حقیقت معلوم کرے جو کہ پر میشور پر ایک بد نما دھبہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پر میشور پر افتراء کیا گیا ہے دوسری بات ان کے اعتقاد کی یہ ہے کہ خدا جب دیکھتا ہے کہ تناسخ سے ایک آدمی نجات حاصل کرنے لگا ہے اور قریب ہے کہ وہ اس پھیر سے بالکل بچ جائے تو وہ اس کو پر کاش میں جگہ دیتا ہے جہاں کہ وہ کچھ مدت آرا ، آرام سے گزارتا ہے اور پھر ایک گناہ کے بدلہ میں جو کہ خدا نے نجات