انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 55

انوار العلوم جلدا ۵۵ محبت الهی ہے تو اس کی طاقت اور بیماری میں ایک سخت جنگ ہوتی ہے اور اس کے بعد جس کا غلبہ ہوتا ہے و ہی انسانی مزاج پر حاوی ہو جاتی ہے۔ پس اسی طرح خدا اور مادہ میں ایک جنگ ہونی چاہئے تھی اب اگر یہ جنگ نہیں ہوئی تو مادہ اور روح ازلی نہیں ہو سکتے۔ اور اگر ہوئی ہے تو علاوہ اس کے کہ خدا کی طاقتوں اور صفتوں پر ایک سخت دھبہ آتا ہے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک معین وقت ہے۔ کیونکہ جنگ کا ہونا اور پھر ایک کا دوسرے پر غلبہ پانا بھی ایک وقت چاہتا ہے۔ اور اس کے بعد پر میشور کا جوڑنے جاڑنے کا کام کرنا ایک وقت محدود ہو جاتا ہے جو کہ خود آریہ کے عقیدہ کے بر خلاف ہے اور در حقیقت بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ دہریت کا پیش خیمہ کھڑا کیا ہے ورنہ آریہ مت کوئی مذہب نہیں کیونکہ جب خدا بھی ازلی ہوا۔ پھر روح بھی ازلی ہوئی اور مادہ بھی ازلی ہوا۔ اور ان میں اتصال کی طاقت بھی ہے تو باقی خدا کا کام کیا رہ گیا۔ اور یہ اس بات کی پکی دلیل ہے کہ آریوں نے اپنے پرانے مذہب کو تباہ کرنے کے لئے ایک قدم ترقی کی ہے اور انہوں نے خیال کیا کہ اگر شروع میں ہی دہریت ظاہر کی تو ہندو پیچھے پڑ جائیں گے اور بنا بنایا کام بگڑ جائے گا پس اس صورت سے قدم بڑھانے چاہئیں کہ ہندوؤں کو خبر نہ ہو اور کام بھی ہو جائے اور اس بات کے ثابت کرنے کے لئے مجھے کوئی بڑی دلیل دینے کی ضرورت نہیں بلکہ خود یہ مسئلہ بھی میرے دعوی کی تائید کرتا ہے کہ خدا مادہ اور روح تینوں ازلی ہیں اب خدا کا کام تو صرف اتارہ گیا کہ ان کو جوڑ دے مگر ساتھ ہی پھر ان میں بھی جڑنے کی طاقت ہے اب صرف ان کو ایک قدم اور چلنا ہو گا اور پھر یہ دہریوں میں جائیں گے ۔ وہ یہ کہ خدا نے جو ڑا بھی نہیں بلکہ خود بخود یہ چیزیں جڑ گئیں کیونکہ ان میں قوت اتصال خود ہی تھی۔ اور اب بھی یہ کوئی مذہب نہیں رکھتے بلکہ صرف قومیت کے لئے انہوں نے ایک مذہب بنا رکھا ہے۔ ورنہ ان کے خیالوں میں جو کچھ ہے وہ صرف یہ چند روزہ دنیاوی ترقی ہے اور اس کے بعد ان کا کوئی عقیدہ نہیں کہ کوئی دوزخ یا بهشت ہے دوزخ تو انہوں نے تاریخ کے پھیر کا نام رکھا ہے اور بہشت وہ جب اس پھیر سے نجات ملے مگر خود ان کا ایک عقیدہ ہی تناسخ کا رد کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تناسخ اور پر کاش کا عقیدہ صرف زبانی باتیں ہیں ورنہ دل سے یہ اس بات کے قائل نہیں وہ عقیدہ یہ ہے کہ فلاں فلاں رات کو عورت سے صحبت کرنے سے لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں اور فلاں فلاں میں لڑکے ۔ اول تو یہ عقیدہ بذات خود غلط اور عقل سے بعید یہ قوم نجات کی سخت و به سخت دشمن ہے کیونکہ تناسخ سے تناسخ سے نجات ملنی ممکن ہی نہیں جب ہر ایک کے میں جب ہر ایک گناہ کے بدلے میں ایک جون ضرور بھگتنی پڑے گی تو نجات کیسی اور پھر نجات کے معنی میں کامل مخلصی مگر ان کے ہاں کامل مخلصی ہے ہی نہیں بلکہ خدا ایک گناہ رکھ ہی لیتا ہے تاکہ پھر انسان کو تاریخ کے پھیر میں ڈالدے۔